صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 304 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 304

صحیح البخاری جلدی الله له ۳- كتاب مناقب الأنصار تشريح : ذِكْرُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ الْعَبَسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حضرت حذیفہ کے والد کا نام حسیل یا حل ہے جبکہ یمان ان کا لقب ہے۔ حضرت حذیفہ اس نسبت سے مشہور تھے اور معروف قبیلہ عبس میں سے تھے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۶ صفحه ۲۸۳) عبس و ذبیان یمن کے دو بڑے قبائل تھے۔ جن کا ذکر اشعار جاہلیت میں فخر سے وارد ہوا ہے۔ زیر باب روایت کے تعلق میں کتاب المغازی باب ۱۸ روایت نمبر ۴۰۶۵ کی تشریح دیکھئے۔ بَاب ۲۳ : ذِكْرُ هِنْدِ بِنْتِ عُتْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حضرت ہند بنت عتبہ ( بن ربیعہ ) رضی اللہ عنہا کا ذکر ٣٨٢٥: وَقَالَ عَبْدَانُ { أَخْبَرَنَا ۳۸۲۵: عبد ان نے کہا کہ عبد اللہ بن مبارک ) عَبْدُ اللهِ } أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ نے ہمیں خبر دی۔ یونس نے ہمیں بتایا کہ زہری الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عَائِشَةَ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا) کہ مجھ سے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ جَاءَتْ هِنْدٌ عروہ نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بنت عُتْبَةَ فَقَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ کہتی تھیں: : ہند بنت عتبہ آئیں ۔ کہنے لگیں: مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ مِنْ یا رسول اللہ ! روئے زمین پر آپ کے ڈیرہ والوں أَهْلِ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَذِلُّوا مِنْ سے بڑھ کر کسی ڈیرہ والوں کا ذلیل و و خوار خوا ہونا مجھ کو پسند نہ تھا۔ پھر اس کے بعد آج روئے زمین پر أَهْلِ خِبَائِكَ ثُمَّ مَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ آپ کے ڈیرہ والوں سے بڑھ کر کسی دوسرے کے ہاتھ میں عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبُّ ڈیرہ والے کا عزت مند ہونا مجھے پسند نہیں۔ کہتی إِلَيَّ أَنْ يَعِزُوْا مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ قَالَتْ تھیں: اور اس ذات کی قسم ہے جس کے، وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ قَالَتْ میری جان ہے، ہند نے یہ بھی کہا: رسول الله ! يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ ابوسفیان بہت ہی کنجوس آدمی ہے۔ آیا مجھ پر کوئی مِسَيْكٌ فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُطْعِمَ گناہ ہو گا کہ اس کا جو مال ہے اس میں سے اپنے مِنَ الَّذِي لَهُ عِيَالَنَا قَالَ لَا أَرَاهُ بچوں کو کھلاؤں۔ آپؐ نے فرمایا : میں یہی سمجھتا (1) یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۱۷۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔