صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 299
صحیح البخاری جلدی ۲۹۹ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ ( بن قعقاع) سے ، عمارہ نے ابوزرعہ سے، ابو زرعہ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّی نے حضرت ابوہریرہ رض رضی اللہ عنہ سے روایت الله اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ کی۔ انہوں نے کہا: جبرائیل نبی صلی علیم کے۔ پاس خ هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ أَتَتْ مَعَهَا إِنَاءٌ فِيْهِ آئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ خدیجہ آرہی ہیں، ایک برتن کو لئے ہوئے جس میں إِدَامٌ أَوْ طَعَامٌ أَوْ شَرَابٌ فَإِذَا هِيَ أَتَتْكَ فَاقْرَأْ عَلَيْهَا السَّلَامَ مِنْ رَّبِّهَا سالن ہے ، یا کہا: کچھ کھانے پینے کی چیزیں۔ جب وہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کی وَمِنِّي وَبَشِّرْهَا بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ طرف سے اور میری طرف سے سلام کہیں یں اور ان قَصَبِ لَا صَخَبَ فِيْهِ وَلَا نَصَبَ۔ کو جنت میں ایک ایسے گھر کی خوشخبری دیں جو طرفه: ۷۴۹۷ خول دار موتیوں کا ہو گا۔ جس میں نہ شور و غل ہو گا نہ رنج و تکلیف۔ ۳۸۲۱ : وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ خَلِيْلٍ ۳۸۲۱ اور اسماعیل بن خلیل نے کہا: علی بن مسہر أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامٍ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے ، ہشام نے عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں: خدیجہ قَالَتِ اسْتَأْذَنَتْ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ کی بہن ہالہ بنت خویلد نے رسول اللہ صلی اللہ علم کے أُخْتُ خَدِيجَةَ عَلَى رَسُوْلِ اللَّهِ پاس آنے کی اجازت مانگی۔ آپ کو خیال آیا کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ خُدیجہ اس طرح (اندر آنے کی اجازت مانگا اسْتِنْذَانَ خَدِيجَةَ فَارْتَاعَ لِذَلِكَ فَقَالَ کرتی تھیں اور اس وجہ سے آپ گھبرا گئے اور اللَّهُمَّ هَالَةَ قَالَتْ فَغِرْتُ فَقُلْتُ مَا فرمایا : خدایا! یہ ہالہ ہیں۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: تَذْكُرُ مِنْ عَجُوْرٍ مِنْ عَجَائِزِ قُرَيْشٍ مجھے رشک آیا، میں نے کہا: آپ قریش کی بوڑھیوں میں سے ایک بوڑھی کو کیا یاد کرتے حَمْرَاءِ الشَّدْقَيْنِ هَلَكَتْ فِي الدَّهْرِ رہتے ہیں جس کی باچھیں سرخ تھیں جو کبھی کی قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِّنْهَا۔ مرکھپ چکی۔ اللہ نے آپ کو تو اس کے بدلے میں اس سے بہتر بھی دے دی ہے۔