صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 295 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 295

صحیح البخاری جلدی ۲۹۵ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار إِلَيْكَ حِمْلَ تِبْنٍ أَوْ حِمْلَ شَعِيْرٍ أَوْ تم ایسے ملک میں رہتے ہو جہاں سود پھیلا ہوا حِمْلَ قَتِ { فَلَا تَأْخُذْهُ } فَإِنَّهُ رِہا ہے۔ اگر کسی شخص کے ذمہ تمہارا کوئی حق ہو اور وَلَمْ يَذْكُرِ النَّضْرُ وَأَبُو دَاوُدَ وَوَهْبٌ وہ تمہیں توڑی (بھوسہ ) یا جو یا چارے کا گٹھ ہدیہ بھیجے تو تم اسے نہ لینا۔ کیونکہ وہ سود ہے اور نفر ( بن شمیل) اور ابو داؤد (طیالسی) اور وہب (بن عَنْ شُعْبَةَ الْبَيْتَ ۔ طرفه: ۷۳۴۲ جریر نے شعبہ سے گھر کا ذکر نہیں کیا۔ الله۔ اللهِ بْنِ سَلَامٍ : حضرت عبد الله بن سلام (ابن الحارث تشريح : مَنَاقِبُ عَبْدِ الـ من بنی قینقاع ) بنو قینقاع مشہور یہودی قبیلہ تھا جو اپنے آپ کو حضرت یوسف علیہ السلام کی ذریت سے بتاتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کا نام زمانہ جاہلیت میں الحصین تھا جسے تبدیل کر کے عبداللہ رکھا گیا۔ ان کا قبیلہ بنو قینقاع انصاری قبائل خزرج کا حلیف تھا۔ جب بوقت ہجرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ میں آئے تو شروع ہی میں انہوں نے اپنے اسلام کا اعلان کیا۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۶۴) تورات اور صحف کتب قدیمہ کے واقف تھے اور سابقہ انبیاء کی پیشگوئیوں میں بیان کر وہ علامتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارکہ میں موجود پایا اور یہ بات ان کے سبقت فی الایمان کا بڑا سبب ہوئی۔ آیت وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ ۔۔۔ الأحقاف (11) سے متعلق مذکورہ بالا قول محض قیاس ہے ورنہ سیاق آیت کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس واضح پیشگوئی سے ہے جس میں انہوں نے اپنے مثیل کے بارے میں بنی اسماعیل میں سے پیدا ہونے کی پیشگوئی کی ہے۔ خود اس روایت میں بھی شک کا اظہار کیا گیا ہے۔ باب ہذا کی دوسری روایت میں خواب کی تعبیر نبوی واضح ہے۔ آپؐ نے الْعُرْوَةُ الْوُقْفی کی تعبیر سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۵۷ کی بناء پر کی ہے۔ جس میں عروہ و شقی کا ذکر آتا ہے۔ پوری آیت یوں ہے : لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ قَدْ تَبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَنِ ۚ فَمَنْ يَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنُ بِاللهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَى لَا انْفِصَامَ لَهَا وَاللهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ یعنی دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر (جائز) نہیں۔ (کیونکہ ) ہدایت اور گمراہی کا باہمی ) فرق خوب ظاہر ہو چکا ہے۔ پس ( سمجھ لو کہ) جو شخص ( اپنی مرضی سے ) نیکی سے روکنے والے (کی بات ماننے سے انکار کرے اور اللہ پر ایمان رکھے تو اس نے (ایک) نہایت مضبوط قابل اعتماد چیز کو جو (کبھی) ٹوٹنے کی نہیں مضبوطی سے پکڑ لیا اور اللہ بہت سننے والا ( اور ) بہت جاننے والا ہے۔ آپؐ کی تعبیر حضرت عبداللہ بن سلام کے نیک انجام پر دلالت کرتی ہے اور وہ آخر تک اسلام پر قائم رہے۔ ان کی قوم نے ان کی مخالفت بھی کی مگر انہوں نے اس کی پرواہ تک نہیں کی۔ تیسری روایت ان کے تقویٰ پر دلالت کرتی ہے۔ (۱) یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۱۶۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔