صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 289 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 289

صحیح البخاری جلدی ۲۸۹ ۳- كتاب مناقب الأنصار ۳۸۰۹ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۳۸۰۹ : محمد بن بشار نے مجھے بتایا۔ غندر نے ہم حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ سے بیان کیا، کہا: میں نے شعبہ سے سنا۔ (انہوں سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نے کہا: میں نے قتادہ سے، قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبَيِّ إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ علیہ وسلم نے آئی سے فرمایا اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں سورۃ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا أَقْرَأَ عَلَيْكَ : لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ ره پڑھ کر سناؤں۔ حضرت اُبی نے پوچھا: کیا میرا أَهْلِ الْكِتٰبِ (البيئة : ٢) قَالَ وَسَمَّانِي نام لیا تھا؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ حضرت ابی یہ قَالَ نَعَمْ فَبَكَى۔ سن کر رو پڑے۔ اطرافه : ۴۹۵۹، ۴۹۶۰، ۴۹۶۱ تشریح : مَنَاقِبُ أَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: حضرت ابی بن کعب بن قیس بن عبيد بن زید بن معاویہ بن عمر و بن مالک بن النجار الانصاری الخزرجی) ان کی کنیت ابو المندر اور ابو الطفیل تھی۔ نسب نامہ سے ظاہر ہے کہ یہ بنو نجار میں سے تھے اور سابقین اولین سے۔ مشہور بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے اور ان کے بعد باقی غزوات میں بھی۔ ۳۰ھ میں فوت ہوئے۔ باب کے تحت دو روایتیں ہیں جن سے ظاہر ہے کہ ان کا شمار قراء اربعہ اور فقہاء اہل مدینہ میں ہوتا ہے۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص طور پر ارشاد فرمایا کہ ابی بن کعب کو آیت محولہ پڑھ کر سنادی جائے، اس سے ان کی تعظیم کا پتہ چلتا ہے ۔ آیت لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَدِّيْنَ حَتَّى تَأْتِيَهُمُ الْبَيِّنَةُ لي ( البيئة :(۲) کا ترجمہ یہ ہے: کفار اہل کتاب اور مشرکین (اپنے کفر سے) باز رہنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس البینہ نہ آجاتی (کھلی کھلی واضح دلیل یا نشان جو حق و باطل میں تمیز کر دے۔) رَسُولُ مِن اللهِ يَتْلُوا صُحُفًا مُطَهَّرَةً فِيهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ ( البيئة: ۳ تا ۴ ) یعنی اللہ کی طرف) سے آنے والا ایک رسول جو انہیں ایسے) پاکیزہ صحیفے پڑھ کر سناتا جن میں قائم رہنے والے احکام ہوں۔ الْبَيِّنَةُ سے مراد وہ رسول ہے جو کامل کتاب لانے والا ہے۔ جس میں نہ مٹنے والی دائمی صداقتیں ہیں اور جن سے صحف سابقہ کا ناقص ہونا کھلے طور پر ثابت ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ کتاب الانبیاء میں اس سے متعلق واضح حوالے گزر چکے ہیں۔ اس سورۃ میں خیر البریہ کا ذکر ہے اور ابدی رضوان الہی کی بشارت دی گئی ہے۔ جس کی وجہ سے حضرت ابی بن کعب کے آنسو خوشی میں بہہ پڑے۔ علامہ قرطبی نے بھی یہی وجہ بیان کی ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۶۱) اس سورۃ کی عظمت اپنے موقع و محل پر بیان ہو گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔