صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 285 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 285

صحیح البخاری جلدی ۲۸۵ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار بن خزرج سے متصل ہوتا ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۵۶) مزید براں یہ کہ راوی کا نام مذکور نہیں۔ مذکورہ بالا فاش غلطی کی وجہ سے امام بخاری نے اس کا ذکر صحیح روایت کے ساتھ ضمنا کر دیا ہے اور قارئین کے عقل و قیاس پر موازنہ چھوڑ دیا ہے۔ باب کی تیسری روایت میں بنو قریظہ کی غداری و بغاوت اور ان کے محاصرہ سے متعلق واقعہ کا ذکر ہے۔ اس تعلق میں دیکھئے کتاب المغازی باب ۳۰۔ بَاب ۱۳ : مَنْقَبَةُ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حضرت اسید بن حضیر اور حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہما کے اوصاف کا بیان ٣٨٠٥ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ۳۸۰۵ علی بن مسلم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حبان بن ہلال نے ہمیں بتایا۔ ہمام نے ہم سے أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بیان کیا کہ قتادہ نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس أَنَّ رَجُلَيْنِ خَرَجَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دو آدمی ایک اندھیری رات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةٍ سے نکلے ۔ وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے سامنے ایک مُّظْلِمَةٍ وَإِذَا نُورٌ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا حَتَّى روشنی ہے۔ تَفَرَّقَا فَتَفَرَّقَ النُّورُ مَعَهُمَا۔ روسی ہے۔ جب وہ جدا جدا ہوئے تو وہ رو تو وہ روشنی بھی دو حصوں میں ہو گئی۔ وَقَالَ مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ اور معمر نے ثابت سے، ثابت نے حضرت انس أُسَيْدَ بْنَ حُضَيْرٍ وَرَجُلًا مِّنَ الْأَنْصَارِ۔ سے روایت کرتے ہوئے بتایا کہ یہ حضرت اسید بن وَقَالَ حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ حضیر اور ایک اور انصاری شخص تھے۔ حماد نے کہا: ثابت نے حضرت انس سے روایت کرتے ہوئے كَانَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ بتایا۔ حضرت اُسید بن حضیر اور حضرت عباد بن عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ بشر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے۔ اطرافه: ۴۶۵، ۳۶۳۹ تشريح ۔ مَنْقَبَةُ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَعَبَّادِ بْنِ بِشْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا : حضرت اسید بن حضیر ( بن سماک بن علیک بن رافع بن امرئ القيس بن زيد بن عبد الاشہل ) بھی انصاری اوسی ہیں۔ ان کی کنیت ابو یچی ہے۔ اور حضرت عباد بن بشر بن وقش بھی عبد الاشہل کی نسل سے تھے۔ اس تعلق میں