صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 282
صحیح البخاری جلدی ۲۸۲ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار تشريح : اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُّسِينِهِمْ : زیر عنوان تین روایات میں بیان شدہ واقعہ کا تعلق آپ کی آخری بیماری کے ایام سے ہے۔ شدت بیماری کی وجہ سے آپ کا باہر نکلنا اور مجلس میں بیٹھنا موقوف ہو چکا تھا۔ جس کی وجہ سے انصار کو روتے ہوئے دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی اور آپ نے درد سر کی وجہ سے سر پٹی سے باندھا ہوا تھا اور منبر پر بیٹھ کر انصار سے حسن سلوک کے بارے میں نصیحت فرمائی جو آپ کی ایک وصیت ہی تھی۔ خلفائے راشدین نے حتی المقدور اس وصیت کا پاس رکھا۔ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مُّسِينِهِمْ سے یہ مراد نہیں کہ حدودِ شریعت توڑنے والے سے اس پر شرعی حد قائم نہ کی جائے بلکہ عام کمزوری سے درگزر کرنا مراد ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۵۵) بَاب ۱۲ : مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ مُعَادٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی خوبیاں رم ۳۸۰۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۳۸۰۲ : ہمیں محمد بن بشار نے بتایا کہ غندر نے حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابو اسحاق أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَاءَ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُوْلُ أُهْدِيَتْ لِلنَّبِيِّ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوڑا ریشمی کپڑے کا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيْرٍ ہدیہ دیا گیا۔ آپ کے صحابہ اس کو چھونے لگے اور فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَمَسُّوْنَهَا وَيَعْجَبُوْنَ اِس کی نرمی سے تعجب کرنے لگے۔ آپ نے مِنْ لَّيْنِهَا فَقَالَ أَتَعْجَبُوْنَ مِنْ لَّيْنِ هَذِهِ فرمایا: کیا اس کپڑے کی نرمی سے تمہیں تعجب لَمَنَادِيْلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ خَيْرٌ مِنْهَا أَوْ ہے؟ سعد بن معاذ کے رومال تو اس سے بہتر أَلْيَنُ۔ رَوَاهُ قَتَادَةُ وَالزُّهْرِيُّ سَمِعَا ہوں گے، یا فرمایا: زیادہ نرم ہوں گے۔ یہ حدیث أَنَسًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قتادہ اور زہری نے بھی روایت کی۔ ان دونوں اطرافه : ۳۲۴۹، ۵۸۳۶، ۶۶۴۰ نے حضرت انس سے سنا۔ حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ ۳۸۰۳ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ ۳۸۰۳ محمد بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ ابو عوانہ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا فَضْلُ بْنُ مُسَاوِرٍ خَتَنُ کے داماد فضل بن مساور نے ہمیں بتایا کہ ابو عوانہ