صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 281
صحیح البخاری جلد ۲۸۱ ۶۳ - كتاب مناقب الأنصار عَنْهُمَا يَقُوْلُ خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ کہتے تھے: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ سے سنا کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مُتَعَطِفًا بِهَا عَلَى مَنْكِبَيْهِ وَعَلَيْهِ باہر آئے اور آپ پر ایک چادر تھی جسے آپ اپنے دونوں مونڈھوں پر لیٹے ہوئے تھے اور سر پر الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ایک چکنے کپڑے کی پٹی باندھی ہوئی تھی، آکر منبر پر بیٹھ گئے۔آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی۔پھر عِصَابَةٌ دَسْمَاءُ حَتَّى جَلَسَ عَلَى قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ فرمایا: اما بعد ، اے لوگو ! آدمی تو بڑھتے جاتے ہیں يَكْفُرُوْنَ وَتَقِلُ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُوْنُوْا اور انصار کم ہو رہے ہیں۔کم ہوتے ہوتے کھانے كَالْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ میں نمک کی طرح رہ جائیں گے۔اس لئے تم میں أَمْرًا يَضُرُّ فِيْهِ أَحَدًا أَوْ يَنْفَعُهُ سے جو بھی امارت کا والی ہو جس کی وجہ سے وہ کسی فَلْيَقْبَلْ مِنْ مُّحْسِنِهِمْ وَيَتَجَاوَزْ عَنْ کو نقصان پہنچا سکے یا نفع دے سکے تو چاہیے کہ انصار میں جو اچھا ہو اس کی قدر کرے اور جو بُرا مُّسِيئِهِمْ۔اطرافه: ۹۲۷، ۳۶۲۸ ہو اس سے درگزر کرے۔۳۸۰۱ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۳۸۰۱ محمد بن بشار نے مجھ سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ نے ہمیں بتایا کہ شعبہ نے ہم سے بیان کیا۔سَمِعْتُ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ انہوں نے کہا: میں نے قتادہ سے سنا کہ حضرت اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رَضِيَ سے روایت کرتے تھے۔آپؐ نے فرمایا: انصار عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَالنَّاسُ سَيَكْفُرُونَ وَيَقِلُوْنَ میرا سرمایہ اور میرے محرم راز ہیں اور لوگ عنقریب بڑھتے جائیں گے اور یہ کم ہو جائیں گے۔فَاقْبَلُوْا مِنْ مُّحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوْا عَنْ مُّسِيْئِهِمْ۔اس لئے ان میں جو اچھا ہو اس کی قدر کرنا اور جو برا ہو اس سے درگزر کرنا۔طرفه : ۳۷۹۹۔