صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 279
صحیح البخاری جلدی ۲۷۹ ۶۳- كتاب مناقب الأنصار غَدَا إِلَى رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پر یہ ظاہر کرتے رہے کہ گویا وہ بھی کھا رہے ہیں وَسَلَّمَ فَقَالَ ضَحِكَ اللهُ اللَّيْلَةَ أَوْ مگر ان دونوں نے خالی پیٹ رات گزاری۔ جب صبح ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عَجِبَ مِنْ فَعَالِكُمَا فَأَنْزَلَ اللهُ: گیا۔ آپ نے فرمایا: آج رات اللہ ہنس پڑا، یا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ فرمایا: تمہارے دونوں کے کام سے بہت خوش ہوا، خَصَاصَةٌ وَ مَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَيكَ اور اللہ نے یہ وحی نازل کی: انصار اپنے آپ پر هُمُ الْمُفْلِحُونَ (الحشر : ١٠) دوسروں کو مقدم کرتے ہیں اگر چہ خود انہیں محتاجی ہی ہو اور جو اپنے نفس کی کنجوسی سے بچائے جائیں طرفه: ۴۸۸۹ تشریح: وہی ہیں جو بامراد ہونے والے ہیں۔ مایہ وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ : معنونه آیت معنونہ آیت پوری یہ ہے جو انصار کی تعریف میں وارد ہوئی ہے ، فرماتا ہے : وَالَّذِينَ تَبَوَّأُ الدَّارَ وَالْإِيْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ وَمَنْ يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ) (الحشر: (۱۰) ان آیات سے قبل اموال نے (یعنی بغیر جنگ کے حاصل ہونے والے اموال کی تقسیم کا ذکر ہے کہ وہ اللہ کا ہے اور رسول کا ہے اور قرابت داروں کا ہے اور یتیموں کا ہے اور مسکینوں کا ہے اور مسافروں کا ہے، تا وہ مال تم میں سے مال داروں کے اندر چکر نہ کھاتا پھرے۔ ان آیات کے بعد انصار اور مہاجرین کا ذکر ہے کہ یہ مال علاوہ ان لوگوں کے مہاجر غریبوں کا حق ہے اور اسی طرح یہ مال ان لوگوں کے لئے بھی ہے جو مدینہ میں پہلے سے رہتے تھے اور مہاجرین کے آنے سے پہلے ایمان قبول کر چکے تھے اور ان سے محبت کرتے تھے جو ان کی طرف ہجرت کر کے آئے اور اپنے دلوں میں اس مال کی کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے جو ان کو دیا گیا تھا اور باوجود اس کے کہ وہ خود غریب تھے ، مہاجرین کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے تھے۔ یہ انصار کا وصف بیان کیا گیا ہے۔ نبی الله س بَاب ۱۱ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوْا عَنْ مُّسِيْئِهِمْ صلی تعلیم کا یہ فرمانا: ان میں جو نیک ہو اس سے قبول کرو اور جو برا ہو اس سے درگزر کرو ۳۷۹۹ : حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ۳۷۹۹: محمد بن يحي ابو علی نے مجھ سے بیان کیا کہ