صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 270 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 270

صحیح البخاری جلد ۲۷۰ - كتاب مناقب الأنصار۔۳۷۹۱ : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ :۳۷۹۱ خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو سلیمان نے ہمیں بتایا، کہا: عمرو بن يحي نے ہمیں بْنُ يَحْيَى عَنْ عَبَّاسِ بْن سَهْل عَنْ بتایا۔انہوں نے عباس بن سہل سے، عباس نے حضرت ابوحمید ساعدی) سے، حضرت ابو حمید أَبِي حُمَيْدٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔آپ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ خَيْرَ دُوْرِ الْأَنْصَارِ نے فرمایا: انصار کے گھرانوں میں سے بہتر گھرانہ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ ثُمَّ عَبْدِ الْأَشْهَل ثُمَّ بنو نجار کا ہے، پھر عبد الاشہل کا، پھر بنو حارث دَارُ بَنِي الْحَارِثِ ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ کا گھرانہ، پھر بنو ساعدہ کا۔اور انصار کے تمام وَفِي كُلّ دُوْرِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ فَلَحِقْنَا گھرانوں میں بھلائی ہے۔پھر ہم حضرت سعد سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ فَقَالَ أَبَا أُسَيْدٍ أَلَمْ بن عبادہ سے ملے۔انہوں نے کہا: ابو اسید! کیا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تمہیں معلوم نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خَيْرَ الْأَنْصَارَ فَجَعَلَنَا أَخِيْرًا فَأَدْرَكَ انصار کو بہترین قرار دیا ہے اور ہمیں اخیر میں سَعْدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کر دیا۔حضرت سعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تَرَ ملے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! انصار کے فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ خَيْرَ دُوْرُ گھرانوں میں سے بہترین گھرانوں کا ذکر کیا گیا الْأَنْصَارِ فَجُعِلْنَا آخِرًا فَقَالَ أَوَلَيْسَ اور ہمیں اخیر میں رکھا گیا۔آپ نے فرمایا: بِحَسْبِكُمْ أَنْ تَكُوْنُوْا مِنَ الْخِيَارِ۔کیا یہ تمہیں کافی نہیں کہ تم بھی اچھے لوگوں اطرافه: ۱۴۸۱، ۱۸۷۲، ۳۱۶۱، ۴۴۲۲ میں سے ہو۔تشريح فـ فَضْلُ دُورِ الْأَنْصَارِ : اس باب کے تحت انصار کے مشہور خاندانوں کا ذکر ہے جو خوبیوں میں دوسرے گھرانوں سے افضل تھے اور یہ فضیلت انہیں اسلام قبول کرنے اور اس کی راہ میں اعلیٰ درجہ کی قربانی کرنے کی وجہ سے حاصل ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوا تھا: قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (لی (الانعام : (۱۶۳) تو (ان سے) کہہ دے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا رب ہے۔آپ نے اس ارشاد کی تعمیل میں دو قسم کی عبادتوں کا نمونہ صحابہ کرام کے سامنے پیش کیا۔ایک وہ عبادت جس پر لفظ صلوۃ کا اطلاق ہوتا ہے اور