صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 262
صحیح البخاری جلدی وَنَصَرُوْهُ أَوْ كَلِمَةً أُخْرَى۔ طرفه: ۷۲۴۴ ۴۶۳ ۳- كتاب مناقب الأنصار آپ کی مدد کی یا ایسا ہی اور لفظ کہا۔ مانا انصار تشريح : لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأَ مِنَ الْأَنا لا لا اله علی الم کا یہ فرمانا کی بہت بڑی تعریف ہے۔ ہجرت کی وجہ سے آپ مہاجر تھے اور جس تعریف کے انصار مستحق ہیں اس کے لئے تشریح باب کے بھی دیکھئے۔ باب ۳ إِخَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مہاجرین اور انصار کو آپس میں بھائی بھائی بنانا صلی علیہم نے ۳۷۸۰ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ ۳۷۸۰: اسماعیل بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا۔ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ انہوں نے کہا: ابراہیم بن سعد نے مجھے بتایا۔ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِهِ قَالَ لَمَّا قَدِمُوا انہوں نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے ان کے دادا (ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف) سے الْمَدِينَةَ آخَى رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ روایت کی۔ انہوں نے کہا: جب وہ مدینہ آئے تو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَسَعْدِ رسول الله صل السلام حضرت عبد الرحمن (بن بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي عوف) اور حضرت سعد بن ربیع کو آپس میں بھائی أَكْثَرُ الْأَنْصَارِ مَالًا فَأَقْسِمُ مَالِي بنایا ۔ حضرت سعد نے حضرت عبد الرحمن سے کہا: نِصْفَيْنِ وَلِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَعْجَبَهُمَا میں انصار میں سب سے زیادہ مالدار ہوں۔ میں إِلَيْكَ فَسَمِهَا لِي أُطَلِقُهَا فَإِذَا اپنے مال کو آدھوں آدھ تقسیم کئے دیتا ہوں اور میری انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَتَزَوَّجْهَا قَالَ بَارَكَ دو بیویاں ہیں، ہیں تم دیکھ لو جونسی ان میں سے تم کو پسند ہو وہ مجھے بتا دو، میں اسے طلاق دے دوں گا اور اللهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ أَيْنَ جب اس کی عدت پوری ہو جائے تو تم اس سے سُوْقُكُمْ فَدَلُّوهُ عَلَى سُوقِ بَنِي شادی کر لینا۔ حضرت عبد الرحمن نے کہا: اللہ تمہیں قَيْنُقَاعَ فَمَا انْقَلَبَ إِلَّا وَمَعَهُ فَضْل تمہاری بیویوں میں اور تمہارے مال میں برکت مِنْ أَقِطٍ وَسَمْنٍ ثُمَّ تَابَعَ الْغُدُوَّ ثُمَّ دے۔ تمہاری منڈی کہاں ہے؟ چنانچہ انہوں نے