صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 258
صحیح البخاری جلدی ۲۵۸ باس العالم ۶۳- كتاب مناقب الأنصار ٦٣- كِتَابُ مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ بَاب ۱ : مَنَاقِبُ الْأَنْصَارِ انصار کی خوبیاں وَ الَّذِينَ تَبَوَّةُ الدَّارَ وَ الْإِيْمَانَ مِنْ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :) اور (اسی طرح مالِ فئے ان قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلا لوگوں کیلئے بھی ہے جو ۔ جو مدینہ میں پہلے سے رہتے يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِمَّا تھے اور (مہاجرین کے آنے سے پہلے ) ایمان قبول کر چکے تھے اور ان سے محبت کرتے تھے جو اُن أوتُوا ۔۔۔۔۔ کی طرف ہجرت کر کے آئے اور اپنے دلوں میں (الحشر: ۱۰) اس (مال) کی کوئی خواہش نہیں رکھتے تھے جو اُن کو دیا گیا تھا اور وہ باوجود اس کے کہ خود غریب تھے مہاجرین کو اپنے نفسوں پر ترجیح دیتے تھے اور جن لوگوں کو اپنے نفس کے بخل سے محفوظ رکھا جائے ایسے تمام لوگ با مراد ہونے والے ہیں۔ ٣٧٧٦ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۳۷۷۶ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا کہ مہدی بن میمون نے ہمیں بتایا۔ غیلان بن ر کا نام ہے کیا جریر نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسِ ان سے پوچھا: تائیں یہ جو انصار کا نام أَرَأَيْتَ اسْمَ الْأَنْصَارِ كُنْتُمْ تُسَمَّوْنَ آپ نے خود ہی یہ رکھ لیا تھا یا اللہ نے آپ کا نام بِهِ أَمْ سَمَّاكُمُ اللَّهُ قَالَ بَلْ سَمَّانَا اللهُ رکھا تھا ؟ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ اللہ نے ہمارا كُنَّا نَدْخُلُ عَلَى أَنَسٍ فَيُحَدِّثُنَا نام رکھا تھا۔ ( غیلان کہتے تھے :) ہم حضرت انس