صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 257 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 257

صحیح البخاری جلد ۲۵۷ ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي یہ بتایا جا چکا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اتم رومانی زوجہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں۔اور ان کے سن پیدائش کے بارے میں صرف تخمینہ ہی ہے۔امام ابن حجر نے آٹھ اور دس سال کے درمیان ہجرت سے قبل بتایا ہے کہ وہ مکہ میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کا رخصتانہ ہجرت کے دو تین سال بعد بالغ ہونے پر عمل میں لایا گیا تھا۔اٹھارہ سال تک وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم و تربیت اور نیک صحبت سے مستفیض ہوئیں اور اکابر صحابہ کرام اور تابعین ان سے استفادہ علم کرتے تھے۔بڑی صائب الرائے تھیں۔جس کی وجہ سے عند الضرورت ملکی مہمات میں ان سے مشورہ حاصل کیا جاتا تھا۔حضرت معاویہ ان کی بڑی قدر کرتے تھے اور انہی کے دور میں تقریباً ستر سال کی عمر میں ۵۸ھ میں فوت ہوئیں رَضِيَ اللهُ عَنْهَا۔ان کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی۔اپنی بہن حضرت اسماء کے بیٹے حضرت عبد اللہ بن زبیر کے نام سے کنیت کرتی تھیں۔ابن زبیر کو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا کہ آپ اسے گھٹی دیں تو آپ نے (حضرت عائشہ سے فرمایا: یہ عبد اللہ ہے اور تم اتم عبد اللہ۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۱۳۵، ۱۳۶)