صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 255 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 255

صحیح البخاری جلدی ۲۵۵ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ وَإِنَّا اور کہنے لگیں: ام سلمہ لوگ بخدا عائشہ کی باری نُرِيدُ الْخَيْرَ كَمَا تُرِيدُهُ عَائِشَةُ فَمُرِي کے دن اپنے ہدیئے پیش کرنے کو زیادہ مناسب رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ سمجھ کر انتظار کرتے رہتے ہیں اور ہم بھی اچھی بات کو اسی طرح چاہتی ہیں جس طرح عائشہ يَأْمُرَ النَّاسَ أَنْ يُهْدُوا إِلَيْهِ حَيْثُ چاہتی ہیں۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كَانَ أَوْ حَيْثُ مَا دَارَ قَالَتْ فَذَكَرَتْ سے کہیں کہ لوگ آپ کو جہاں بھی آپ ہوں یا ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ جہاں بھی آپ باری پر جائیں آپ کو ہدیہ بھیجا من الله سل عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَأَعْرَضَ عَنِی کریں۔ ام سلمہ نے نبی صلی علیم سے یہ ذکر کیا۔ و کہتی تھیں: آپ نے مجھ سے ۔ ھ سے منہ پھیر لیا۔ جب وہ فَلَمَّا عَادَ إِلَيَّ ذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ آئے تو میں نے (دوبارہ) فَأَعْرَضَ عَنِي فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ آپ دوبارہ میرے پاس آئے آپ سے یہ ذکر کیا۔ آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔ ذكَرْتُ لَهُ فَقَالَ يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا جب آپ تیسری دفعہ آئے تو میں نے آپ سے تُؤْذِيْنِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا: ام سلمہ ! عائشہ کی وجہ نَزَلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ سے مجھے مت ستاؤ۔ کیونکہ اللہ کی قسم مجھ پر کبھی امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرِهَا ۔ اطرافه: ۲۵۷۴، ۲۵۸۰، ۲۵۸۱ وحی نازل نہیں ہوئی جب میں عائشہ کے سوا تم میں سے کسی کے لحاف میں ہوتا ہوں۔ الله عنها : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کے تعلق میں تشريح ۔ فَضْلُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ اس باب کے تحت آٹھ روایتیں منقول ہیں۔ پہلی روایت ؟ ہیں۔ پہلی روایت میں ان کی روحانی منزلت کا بیان ہے کہ وہ اہل مکاشفہ تھیں۔ چنانچہ اسی روایت میں ان کے روحانی مقام کے بارے میں ضمنا صراحت ہے اور دوسری اور تیسری روایت میں ایک تشبیہ سے ان کی باقی عورتوں سے امتیازی خوبی کا اظہار کیا گیا ہے۔ ثرید از روئے لغت گوشت کے شوربے میں تر شدہ ٹکڑوں کو کہتے ہیں۔ (لسان العرب - ثرد) (اقرب الموارد - ثرد) مگر جو ثرید مجھے عربی ممالک میں کھانے کا موقع ملا ہے وہ گندم اور دیگر حبوب کی اکثر اجناس کا کوفتہ و بیختہ گوشت کے شوربے میں پختہ تیار کردہ مالیدہ سا ہوتا ہے جس میں بادام و پستہ بھی ڈالا جاتا ہے اور کھانے میں نہایت لذیذ کھانا ہے جو اس ملک میں کھایا جاتا ہے۔ مذکورہ بالا تشبیہ سے بتایا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جامع الصفات خاتون ہیں جو اپنے اندر ہر خوبی رکھتی ہیں اور کارآمد وجود ہیں۔ امام بخاری نے اس تشبیہ کو پہلی روایت کے بعد ذکر کیا ہے مبادا کوئی دنیا دار اسے نفسانی لذت پر محمول کرے۔