صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 254 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 254

صحیح البخاری جلد ۲۵۴ کتاب فضائل أصحاب النبي ام عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَنَزَلَتْ پاس آئے تو انہوں نے آپ سے اس کی شکایت آيَةُ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ کی اور تیم کا حکم نازل ہوا۔حضرت اُسید بن حضیر جَزَاكِ اللهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ کہنے لگے: (عائشہ!) اللہ آپ کو جزائے خیر دے، آپ پر بخدا جو بھی مصیبت کبھی نازل ہوئی تو أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا ضرور ہی اللہ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کی وَجَعَلَ فِيْهِ لِلْمُسْلِمِيْنَ بَرَكَةٌ۔راہ پیدا کر دی اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت ڈالی۔اطرافه : ۳۳۴ ۳۳۶، ۳۶۷۲، ۴۵۸۳، ۴۶۰۷ ، ۴۶۰۸، ۵۱۶۴ ، ۵۲۵۰، ۵۸۸۲، ۶۸۴۴، ۶۸۴۵ ٣٧٧٤: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۳۷۷۴۔عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوئے تو اپنی بیماری لَمَّا كَانَ فِي مَرَضِهِ جَعَلَ يَدُوْرُ فِي نِسَائِهِ وَيَقُوْلُ أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا میں اپنی ازواج کے پاس باری باری جانے لگے اور غَدًا } حِرْصًا عَلَى بَيْتِ عَائِشَةَ پوچھتے کہ کل میں کہاں ہوں گا؟ {کل میں کہاں ہوں گا؟ کیونکہ آپ کو حضرت عائشہ کے گھر قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي جانے کی خواہش تھی۔حضرت عائشہ کہتی تھیں: سَكَنَ۔اطرافه : ۳۱۰۰,۱۳۸۹,۸۹۰ جب میرا دن ہوا تو پھر آپ کو تسلی ہوئی۔-۲۵۱۰ ،۵۲۱۷ ،۴۴۵۱ ،۴۴۵۰ ، ۴۴۴۹،۴۴۴۶۰ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ ۳۷۷٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۳۷۷۵ : عبد اللہ بن عبد الوہاب نے ہم سے بیان عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا کہ ہشام نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا، کہا: لوگ حضرت عائشہ کی باری کا دن اپنے ہدیئے پیش کرنے کے لئے زیادہ مناسب سمجھ کر انتظار فَاجْتَمَعَ صَوَاحِبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ کرتے رہتے تھے۔حضرت عائشہ کہتی تھیں: یہ فَقُلْنَ يَا أُمَّ سَلَمَةَ وَاللَّهِ إِنَّ النَّاسَ دیکھ کر میری سوکنیں ام سلمہ کے ہاں اکٹھی ہوئیں (1) فتح الباری مطبوعہ بولاق میں یہ الفاظ دو دفعہ آئے ہیں۔(فتح الباری جزء کے حاشیہ صفحہ ۱۳۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔