صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 254
صحیح البخاری جلدی ۲۵۴ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَنَزَلَتْ پاس آئے تو انہوں نے آپ سے اس کی شکایت آيَةُ التَّيَمُّمِ فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ کی اور سیم کا اور تیمم کا حکم نازل ہوا۔ حضرت اُسید بن حضیر جَزَاكِ اللهُ خَيْرًا فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ کہنے لگے : (عائشہ ) اللہ آپ کو جزائے خیر دے، آپ پر بخدا جو بھی مصیبت کبھی نازل ہوئی تو أَمْرٌ قَطُّ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ لَكِ مِنْهُ مَخْرَجًا وَجَعَلَ فِيْهِ لِلْمُسْلِمِيْنَ بَرَكَةً۔ ضرور ہی اللہ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کی راہ پیدا کر دی اور مسلمانوں کے لئے اس میں برکت ڈالی۔ اطرافه : ۳۳۴، ۳۳۶، ۳۶۷۲، ۴۵۸۳ ، ۴۶۰۷، ۴۶۰۸، ۵۱۶۴، ۵۲۵۰، ۵۸۸۲، ۶۸۴۴، ۶۸۴۵ ٣٧٧٤ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۳۷۷۴ : عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام سے، أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوئے تو اپنی بیماری لَمَّا كَانَ فِي مَرَضِهِ جَعَلَ يَدُورُ فِي نِسَائِهِ وَيَقُولُ أَيْنَ أَنَا غَدًا أَيْنَ أَنَا میں اپنی ازواج کے پاس باری باری جانے لگے اور پوچھتے کہ کل میں کہاں ہوں گا؟ {کل میں کہاں غَدًا } حِرْصًا عَلَى بَيْتِ عَائِشَةَ ہوں گا ؟ کیونکہ آپ کو حضرت عائشہ کے گھر قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمِي جانے کی خواہش تھی۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: سكن۔ جب میرا دن ہوا تو پھر آپ کو تسلی ہوئی۔ اطرافه : ۸۹۰، ۳۱۰۰،۱۳۸۹، ۴۴۳۸، ۴۴۴۶، ۴۴۴۹، ۴۴۵۱،۴۴۵۰، ۵۲۱۷، ۶۵۱۰ ٣٧٧٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۳۷۷۵ : عبد اللہ بن عبد الوہاب نے ہم سے بیان عَبْدِ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ کیا کہ حماد نے ہمیں بتایا کہ ہشام نے اپنے باپ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا، کہا: لوگ حضرت عائشہ کی باری کا دن اپنے ہدیئے بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ پیش کرنے کے لئے زیادہ مناسب سمجھ کر انتظار فَاجْتَمَعَ صَوَاحِبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ کرتے رہتے تھے۔ حضرت عائشہ کہتی تھیں: یہ فَقُلْنَ يَا أُمَّ سَلَمَةَ وَاللَّهِ إِنَّ النَّاسَ دیکھ کر میری سوکنیں ام سلمہ کے ہاں اکٹھی ہوئیں (1) فتح الباری مطبوعہ بولاق میں یہ الفاظ دو دفعہ آئے ہیں۔ ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۱۳۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔