صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 256
صحیح البخاری جلد ۲۵۶ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي مذکورہ بالا مثال میں فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ سے مراد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی ازواج ہیں نہ کہ سارے جہان کی عورتیں جن میں مریم صدیقہ و آسیہ و خدیجہ و فاطمہ علیہن السلام بھی شامل ہیں۔غلط فہمی سے بچانے کے لئے ان روایتوں کو نمبر دوم پر ذکر کیا ہے۔امام ابن حجر نے بھی اس نسبتی فضیلت کی طرف توجہ دلائی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حديث أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلَد وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ کا حوالہ بطور تائید دیا ہے۔حدیث خَيْرُ نِسَآئِهَا خَدِيجَةُ مناقب خدیجہ کے باب میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سند سے منقول ہے۔(دیکھئے کتاب مناقب الانصار باب (۲۰) اور لکھا ہے کہ شرید سے کامل ترید مراد ہے اور شاعر کے قول کا حوالہ نقل کیا ہے: إذَا مَا الْخَبْرُ تَأْدَمُهُ بِلَحْمٍ فَذَاكَ أَمَانَةُ اللَّهِ الشَّرِيْدُ (فتح الباری جزءے صفحہ ۱۳۶) پانچویں روایت (نمبر ۳۷۷۲) کا تعلق جنگ جمل سے ہے۔جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت سے رک گئیں اور انتقام کا مطالبہ کرنے والوں کی ہم خیال تھیں کہ پہلے قاتلان عثمان رضی اللہ عنہ سے انتقام لیا جائے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں کا جواب تھا کہ بیعت خلافت پر پہلے جمع ہونا موجودہ فتنہ پردازی کے فرد کے لیے ضروری ہے اور امن قائم ہونے پر بعد از تحقیق انتقام لیا جا سکتا ہے تا انتقام میں صحیح طریق اختیار کیا جائے۔اس اختلاف پر جو لوگ جوش میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہو گئے تھے ان کی صف میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں اور وہ اونٹ پر سوار ہو کر میدان کارزار میں بذات خود گئیں اور لوگوں کو جوش دلاتی رہیں۔روایت نمبر ۳۷۷۲ میں اس واقعہ کا ذکر ہے۔چونکہ سمجھدار اور بے نفس تھیں، حضرت علی کے سمجھانے سے سمجھ گئیں اور ان کی بیعت کر لی۔چونکہ حضرت عائشہ اونٹ پر سوار ہو کر جنگ میں شریک ہوئی تھیں، اس لئے یہ واقعہ جنگ جمل کے نام سے تاریخ اسلامی میں مشہور ہے۔روایت نمبر ۳۷۷۳ میں بار گم ہونے کے واقعہ کا تفصیلاً ذکر گذر چکا ہے۔یہاں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ایک برکت کے حوالے سے تمیم کے امر تشریح کا ذکر ہے۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب التیمم۔روایت نمبر ۳۷۷۴ کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری بیماری اور اس میں تیمار داری سے ہے۔آخری روایت سے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نیک ازواج کی وسعت قلبی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طلب خوشنودی کا ذکر ہے وہاں اس سے آپ کی نزاہت نفس کا علم بھی ہوتا ہے۔آپ نے کسی سے کہنا پسند نہ فرمایا کہ مجھے فلاں گھر میں ہدیئے بھیجا کرو بلکہ اس بارے میں ایک بیوی کی تجویز کو بُرا منایا اور اس بیوی سے ناراضگی میں اعراض فرمایا۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ وَآلِهِ 1) المستدرك على الصحيحين للحاكم، كتاب معرفة الصحابه ، خديجة بنت خویلد، جزء۳ صفحه ۱۸۵