صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 250 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 250

صحیح البخاری جلدی ۲۵۰ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم بَاب ۲۹ : مَنَاقِبُ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ حضرت فاطمہ علیہا السلام کے اوصاف وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ سردار فَاطِمَةُ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ۔ خواتین اہلِ جنت ہے۔ ٣٧٦٧: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۳۷۶۷ : ابو الولید نے ہم سے بیان کیا کہ ابن ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنِ عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ سے ، عمرو نے ابن ابی ملیکہ سے ، انہوں نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللهِ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاطِمَةُ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میری لخت جگر ہے، جس نے اس کو ناراض کیا اس نے مجھے بِضْعَةٌ مِّنِّي فَمَنْ أَغْضَبَهَا أَغْضَبَنِي۔ ناراض کیا۔ اطرافه: ۹۲۶، ۳۱۱۰، ۳۷۱۴، ۳۷۲۹، ۵۲۳۰، ۵۲۷۸ ۱ {حَدَّثَنَا يَحْيَ بْنُ قَزَعَةَ أَخْبَرَنَا يحي بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا۔ ابراہیم بن سعد إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ عُرْوَةَ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے ، ان کے عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ باپ نے عروہ سے، عروہ نے حضرت عائشہ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ فِي شَكْوَاهُ روایت کی۔ وہ کہتی تھیں کہ نبی صلی ٹیم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کو اپنی اس بیماری میں جس میں کہ الَّذِي قُبِضَ فِيْهَا فَسَارَّهَا بِشَيْءٍ آپ اٹھائے گئے ، بلایا۔ اور آپؐ نے چپکے سے کچھ فَبَكَتْ ثُمَّ دَعَاهَا فَسَارَّهَا فَضَحِكَتْ فرمایا تو وہ رو پڑیں۔ پھر اس کے بعد آپ نے ان کو قَالَتْ فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ بلایا اور ان سے چپکے سے بات کی تو وہ ہنس پڑیں۔ سَارَّنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتی تھیں: میں نے فاطمہ سے اس کے متعلق پوچھا فَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُقْبَضُ فِي وَجَعِهِ تو انہوں نے کہا: نبی صلی السلام نے جو چپکے سے مجھ سے صة الَّذِي تُوَفِّيَ فِيْهِ فِبَكَيْتُ ثُمَّ سَارَّنِي بات کی تو آپ نے مجھے بتایا تھا کہ آپ اس بیماری (۱) یہ روایت صحیح بخاری مطبوعه قدیمی کتب خانہ کراچی کے مطابق ہے۔ ( صحیح بخاری جلد اول صفحہ ۵۳۲)