صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 251
صحیح البخاری جلد ۲۵۱ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي الام فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ میں اٹھائے جائیں گے، جس میں کہ آپ فوت فَضَحِكْتُ} ہو گئے اور میں رو پڑی۔پھر آپ نے مجھ سے راز کی بات کی تو آپ نے مجھے بتایا کہ میں آپ کے اہل بیت میں سے پہلی ہوں گی جو آپ سے ملوں گی۔یہ سن کر میں ہنس پڑی۔} أنظر : ٣٧١٥، ٣٧١٦۔مَنَاقِبُ فَاطِمَةَ عَلَيْهَا السَّلَامُ : حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا محتاج تعارف نہیں۔تشریح : عنوان باب میں قول نبوئی کا جو حوالہ منقول ہے، کتاب المناقب باب ۲۵: علامات النبوة میں گذر چکا ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۳۶۲۴) دونوں روایتیں زیر باب ۱۲ بھی گذر چکی ہیں۔اس تعلق میں کتاب احادیث الأنبياء باب ۴۵، ۴۶ نیز اس تعلق میں کتاب مناقب الأنصار باب ۲۰ : تزويج النبی ﷺ خديجة بھی دیکھئے۔علماء نے یہ بحث عبث اٹھائی ہے کہ آیا وہ حضرت مریم علیہا السلام سے افضل تھیں یا نہیں۔باب ۳۰: فَضْلُ عَائِشَةَ رَضِيَ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اللهُ عَنْهَا ٣٧٦٨: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۳۷۶۸ : يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یونس سے ، یونس نے شِهَابٍ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ إِنَّ عَائِشَةَ ابن شہاب سے روایت کی۔ابوسلمہ نے کہا کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَا عَانِسُ صلى اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: عائشہ ! یہ هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ فَقُلْتُ جبریل ہیں۔تمہیں سلام کہتے ہیں۔میں نے کہا: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ و علیہ السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔آپ جو کچھ دیکھتے تَرَى مَا لَا أَرَى تُرِيْدُ رَسُوْلَ اللهِ ہیں میں نہیں دیکھتی۔اس سے ان کی مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے تھی۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه ،۳۲۱۷ ،۶۲۰۱ ۶۲۴۹، ۶۲۵۳ ٣٧٦٩: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۳۷۶۹ : آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا قَالَ وَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔دوسری سند (امام بخاری