صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 251 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 251

صحیح البخاری جلدی ۲۵۱ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِ بَيْتِهِ أَتْبَعُهُ میں اٹھائے جائیں گے، جس میں کہ آپ فوت فَضَحِكْتُ ۔} ہو گئے اور میں رو پڑی۔ پھر آپ نے مجھ سے راز کی بات کی تو آپ نے مجھے بتایا کہ میں آپ کے اہل بیت میں سے پہلی ہوں گی جو آپؐ سے ملوں گی۔ یہ سن کر میں ہنس پڑی۔ } أنظر: ٣٧١٥، ٣٧١٦۔ تشريح : مَنَاقِبُ فَاطِمَةً عَلَيْهَا السَّلام: حضرت فاطمہ رضی الله عنا محتا تعارف نہیں۔ عنوان باب میں قول نبوی کا جو حوالہ منقول ہے ، کتاب المناقب باب ۵ باب :۲۵ : علامات ال مَاتُ النُّبُوَّةِ میں گذر چکا ہے۔ (دیکھئے روایت نمبر ۳۶۲۴) دونوں روایتیں زیر باب ۱۲ بھی گذر چکی ہیں۔ اس تعلق میں کتاب احادیث الأنبياء باب ۴۵، ۴۶ نیز اس تعلق میں کتاب مناقب الأنصار باب ۲۰ : تزويج النبي ﷺ خديجة بھی دیکھئے۔ علماء نے یہ بحث عبث اٹھائی ہے کہ آیا وہ حضرت مریم علیہا السلام سے افضل تھیں یا نہیں۔ بَاب ۳٠: فَضْلُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت ٣٧٦٨ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ٣٧٦٨ : يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یونس سے، یونس نے شِهَابٍ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ إِنَّ عَائِشَةَ ابن شہاب سے روایت کی۔ ابو سلمہ نے کہا کہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں: رسول اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا يَا عَائِشَ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: عائشہ ! یہ هَذَا جِبْرِيلُ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ فَقُلْتُ جبریل ہیں۔ تمہیں سلام کہتے ہیں۔ میں نے کہا: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ وعلیه السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ جو کچھ دیکھتے تَرَى مَا لَا أَرَى تُرِيدُ رَسُوْلَ اللهِ ہیں میں نہیں دیکھتی۔ اس سے ان کی مراد رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ اطرافه ۳۲۱۷، ۶۲۰۱ ۶۲۴۹، ۶۲۵۳ صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے تھی۔ ٣٧٦٩: حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۳۷۶۹ : آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا قَالَ۔ وَ حَدَّثَنَا عَمْرُو أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ کہ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ دوسری سند (امام بخاری