صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 246
صحیح البخاری جلدی ٣٧٦١: حَدَّثَنَا مُوسَى عَنْ أَبِي ۳۷۶۱ : موم ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم ا: موسیٰ (بن اسماعیل) نے ہم سے بیان عَوَانَةَ عَنْ مُّغِيْرَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ کیا۔ انہوں نے ابو عوانہ سے، ابوعوانہ نے مغیرہ عَلْقَمَةَ دَخَلْتُ الشَّامَ فَصَلَّيْتُ مغیرہ نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے سے ، رَكْعَتَيْنِ فَقُلْتُ اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي علقمہ سے روایت کی کہ میں شام گیا اور میں نے جَلِيْسًا صَالِحًا} فَرَأَيْتَ شَيْخًا دو رکعتیں پڑھیں۔ میں نے کہا: اے اللہ ! میرے مُقْبِلًا فَلَمَّا دَنَا قُلْتُ أَرْجُوْ أَنْ لئے کوئی اچھا ہم نشین میسر کر۔ پھر میں نے ایک يَكُونَ اسْتَجَابَ اللهُ قَالَ مِنْ أَيْنَ بزرگ کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا۔ جب وہ أَنْتَ قُلْتُ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ قَالَ قریب آئے تو میں نے دل میں کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ اللہ نے میری دعا قبول فرمائی ہے۔ انہوں أَفَلَمْ يَكُنْ فِيْكُمْ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ أَوَلَمْ يَكُنْ فِيكُم نے پوچھا: تم کہاں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل کوفہ سے۔ انہوں نے کہا: کیا تم میں وہ شخص نہیں تھا جو الَّذِي أُجِيرَ مِنَ الشَّيْطَانِ أَوَلَمْ يَكُنْ جوتی اور تکیہ اور آن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وض فِيكُمْ صَاحِبُ السِّرَ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ کا برتن اپنے پاس رکھتا تھا؟ کیا وہ شخص تم میں نہ تھا غَيْرُهُ كَيْفَ قَرَأَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ وَاللَّيْلِ جسے اللہ نے شیطان سے پناہ دی؟ کیا تم میں وہ فَقَرَأْتُ: وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ رازدار نہیں جس راز کو اس کے سوا کوئی نہیں إِذَا تَجَلَّى الليل : ۲-۳) وَالذَّكَرِ جانتا ؟ ام عبد کے بیٹے (حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ ) وَالْأُنْثَى قَالَ أَقْرَأَنِيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ سورة وَاليْلِ کس طرح پڑھتے تھے ؟ میں نے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاهُ إِلَى فِيَّ فَمَا زَالَ پڑھا: وَالَّيْلِ إِذَا يَغْشَى وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى ) هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا يَرُدُّونَنِي۔ وَالذَّكَرِ وَالْأُنفی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھی منہ ما منہ در منہ یہی پڑھایا تھا۔ یہ وضو لوگ میرے پیچھے پڑے رہے یہاں تک کہ قریب تھا کہ مجھے اس قراءت سے ہٹا دیتے۔ اطرافه: ۳۲۸۷، ۳۷۴۲ ۳۷۴۳، ۴۹۴۳، ۴۹۴۴، ۶۲۷۸ 1) لفظ صالحا فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۱۲۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔