صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 242
صحیح البخاری جلدی ۴۴۴ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صلي سرداروں کی اولاد میں سے تھے۔ ان کی والدہ کا نام حمامہ تھا۔ قبائلی جنگ میں قید ہو گئے تھے۔ حضرت ابو بکر نے بذریعہ حضرت عباس انہیں پانچ اوقیہ چاندی سے خرید لیا تھا۔ اسلام کی وجہ سے انہوں نے سخت ایذائیں سہیں۔ (1) ( فتح الباری جزءے صفحہ ۱۲۶) اس تعلق میں کتاب البیوع باب ۱۰۰ مع تشریح دیکھئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انہیں سردار سے ملقب کرنا بلا وجہ نہ تھا۔ عنوان باب ۲۳ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کا جو حوالہ دیا گیا ہے۔ اس کے لئے کتاب التهجد باب ۱۷ روایت نمبر ۱۱۴۹ دیکھئے۔ باب ٢٤ : ذِكْرُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حضرت (عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ذکر ٣٧٥٦: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۳۷۵۶ : مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ خَالِدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد (حذاء) سے، خالد عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ ضَمَّنِي النَّبِيُّ نے عکرمہ سے، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَدْرِهِ روایت کی۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سینے سے مجھے لگا یا اور فرمایا: اے اللہ ! وَقَالَ اللَّهُمَّ عَلِّمْهُ الْحِكْمَةَ۔ اس کو حکمت سکھا۔ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ ابو معمر نے ہم سے بیان کیا کہ عبد الوارث نے الْوَارِثِ وَقَالَ اللَّهُمَّ عَلَّمْهُ الْكِتَابَ۔ ہمیں بتایا۔ پھر یہی روایت بیان کی۔ اس میں یوں ہے کہ اے اللہ ! اس کو کتاب کا علم دے۔ حَدَّثَنَا مُوسَى حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ موسیٰ بن اسماعیل) نے ہم سے بیان کیا کہ خَالِدٍ ۔۔۔ مِثْلَهُ، وَالْحِكْمَةُ الْإِصَابَةُ وہیب نے ہمیں بتایا کہ خالد سے اسی طرح فِي غَيْرِ النُّبُوَّةِ۔ مروی ہے اور حکمت نبوت کے علاوہ بھی اطرافه: ۷۵، ۱۴۳، ۷۲۷۰۔ (افراد کو) مل سکتی ہے۔ 1) الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر بلال بن رباح مولى أبي بكر، جزء ۳ صفحه ۲۳۲ مصنف عبد الرزاق، کتاب الجامع للامام معمر ، باب أصحاب النبي ، جزء ۱۱ صفحه ۲۳۴