صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 13
صحیح البخاری جلد ۱۳ ۶۱- كتاب المناقب کے واقعات کا مجملاً ذکر کرنا پڑا ہے۔کتاب الانبیاء کے آخری ابواب سے ظاہر ہے کہ اسلام کا اصل مقابلہ موجودہ عیسائیت سے ہے جس کا مظہر وجال اکبر ہے جو ایسی سیاست کی حمایت میں شب و روز کوشاں ہے جو بنی نوع انسان کے لئے شام اور نَارٍ مِّنْ يَحْمُوم کا باعث ، بلا مبالغہ سینکڑوں تلخیاں اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے۔باب کی آخری روایت میں ہے: وَالْإِيْمَانُ يَمَانٍ وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةً ایمان و حکمت یمن کی طرف منسوب کئے گئے ہیں۔لِكُلِّ مَقَام مقالہ ہر مقام کے مناسب حال بات کہی جاتی ہے۔اس قول سے علی الاطلاق نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک میں تھے تو اس وقت آپ کو اطلاع ملی کہ اہائی یمین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذریعہ اسلام قبول کر لیا ہے۔اس موقع پر آپ نے اس فقرے سے اپنی خوشنودی کا اظہار فرمایا۔بعض کے نزدیک آپ نے ایمان کو مکہ کی طرف منسوب کیا کہ بیت اللہ اسلام کا منبع اول ہے اور بعض کا خیال ہے کہ آپ کی مراد مدینہ تھی کہ وہ آپ کی ہجرت گاہ ہے اور اس سے اسلام بڑھا، پچھلا اور پھولا۔نیز ایک موقع پر آپ نے فرمایا: الْإِيْمَانُ في أَهْلِ الْحِجَازِ ) بوجہ اس کے کہ اس ملک کے باشندوں نے اسلام قبول کیا اور اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانیاں برداشت کیں۔اور بعض نے مذکورہ نسبت کی یہ توجیہ بھی کی ہے کہ انصار میں اکثریت اہل یمن کی تھی۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۶۵۱) بَاب ٢ : مَنَاقِبُ قُرَيْشٍ قریش کی خوبیاں ٣٥٠٠ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۵۰۰: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيَ قَالَ كَانَ مُحَمَّدُ نے ہمیں بتایا۔زہری سے روایت ہے کہ انہوں بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ أَنَّهُ بَلَغَ نے کہا: محمد بن جبیر بن مطعم بیان کرتے تھے کہ مُعَاوِيَةَ وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مَنْ حضرت معاویہ کو خبر پہنچی اور وہ اس وقت قریش کے ایک وفد کے ساتھ ان کے پاس تھے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص بیان کرتے تھے کہ عنقریب قحطان سے ایک بادشاہ ہو گا۔یہ قُرَيْشٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَيَكُوْنُ مَلِكٌ مِنْ قَحْطَانَ فَغَضِبَ مُعَاوِيَةٌ فَقَامَ فَأَثْنَى الرحيم سن کر حضرت معاویہؓ غصے میں آئے اور کھڑے عَلَى اللهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا ہوئے اور انہوں نے اللہ کی تعریف کی جس کا وہ بَعْدُ فَإِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّ رِجَالًا مِنْكُمْ اہل ہے۔پھر کہا: اما بعد ! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ I (مسلم، كتاب الإيمان، باب تفاضل أهل الإيمان فيه ورجحان أهل اليمن فيه)