صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 14
صحیح البخاری جلدی ۱۴ ۶۱ - كتاب المناقب يَتَحَدَّثُوْنَ أَحَادِيثَ لَيْسَتْ فِي تم میں سے بعض ایسی باتیں بیان کرتے ہیں جو نہ كِتَابِ اللهِ وَلَا تُؤْثَرُ عَنْ رَّسُوْلِ اللهِ کتاب اللہ میں ہیں اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُولَئِكَ وسلم سے منقول ہیں۔ یہ تم میں سے وہی لو وہی لوگ ہیں جو بالکل جاہل ہیں۔ اس لئے جھوٹے خیالات سے جُهَّالُكُمْ فَإِيَّاكُمْ وَالْأَمَانِيَّ الَّتِي تُضِلُّ بچو، جن خیالات نے ان کو گمراہ کر رکھا ہے کیونکہ أَهْلَهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ آپ فرماتے تھے کہ یہ امر (یعنی امارت و سرداری) فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيْهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ قریش میں ہی رہے گا جس نے بھی ان سے دشمنی اللهُ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّيْنَ۔ رکھی، اللہ اسے منہ کے بل اوندھا کرے گا جب طرفه: ۷۱۳۹۔ تک وہ دین پر برقرار رہیں۔ ٣٥٠١ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ۳۵۰۱: ابوالولید نے ہم سے بیان کیا۔ عاصم بن عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي محمد نے ہمیں بتایا، کہا: میں نے اپنے باپ سے سنا۔ وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ، حضرت عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ ابن عمرؓ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تھے۔ آپ نے فرمایا: امارت ہمیشہ قریش میں يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ ہی رہے گی جب تک کہ ان میں سے دو مِنْهُمُ اثْنَانِ۔ طرفه: ۷۱۴۰۔ باقی رہیں گے ۔ و آدمی ٣٥٠٢ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۳۵۰۲: يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، عقیل نے شِهَابٍ عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ جُبَيْرِ ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن مسیب سے ، ابن بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ مَشَيْتُ أَنَا وَعُثْمَانُ میب نے حضرت جبیر بن مطعم سے روایت کی۔ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ أَعْطَيْتَ انہوں نے کہا کہ میں اور حضرت عثمان بن عفان