صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 222
صحیح البخاری جلدی ۲۲۲ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي عليهم { قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ ثُلُثُ الْإِسْلَامِ ابو عبد الله (امام بخاری ) نے کہا ہے : ملت يَقُوْلُ وَأَنَا ثَالِثُ ثَلَاثَةٍ مَعَ النَّبِيِّ الْإِسْلام سے مراد یہ ہے کہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف تین مرد مسلمان تھے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔} اور میں (سعد) تیسرا تھا۔ } الله تشريح : مَنَاقِبُ سَعْدِ بْنِ أَي وَقَاصِ الزُّهْرِي : الحضرت صلی اللہ علیہ وسلمکی والدہ خاندان بنی زہرہ میں سے تھیں۔ حضرت سعد کا آپ سے تعلق خالہ زادگی کا تھا۔ ابو وقاص کا نام مالک بن وہیب یا اہیب ہے۔ جن کا نسب نامہ یہ ہے : ابن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ۔ اس لحاظ سے ان کا تعلق خاندان بنی مرہ کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ متصل ہوتا ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی والدہ حمنہ بنت سفیان ( بن امیہ بن عبد شمس) تھیں جو مسلمان نہیں ہوئیں۔ زیر باب چار روایتیں ہیں جو حضرت سعد کے مقام عظیم پر دلالت کرتی ہیں۔ کیا بلحاظ اظ سبقت الایمان اور کیا بلحاظ جہاد عظیم۔ シ روایت نمبر ۳۷۲۸ میں حضرت سعد کے پہلے تیر چلانے کا ذکر ہے۔ یہ واقعہ مقام رابغ کا ہے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلا دستہ بھیجا کہ علاقہ کی حالت کا علم حاصل کرے، باقاعدہ جنگ نہ تھی۔ مشرکین اور مسلمانوں کے درمیان معمولی تیر اندازی ہوئی اور مشرک جلدی میدان سے چلے گئے۔ یہ ہجرت کے پہلے سال کا واقعہ ہے۔ فتح الباری جزءے صفحہ ۷ ۱۰ ، ۱۰۸) بَاب ١٦ : ذِكْرُ أَصْهَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دامادوں کا ذکر مِنْهُمْ أَبُو الْعَاصِ بْنُ الرَّبِيعِ۔ اور ان میں سے حضرت ابو العاص بن ربیع نہیں۔ ۳۷۲۹ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۷۲۹ : ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي عَلِيٌّ نے ہمیں بتایا کہ زہری سے روایت ہے۔ انہوں بْنُ حُسَيْنٍ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ نے کہا: علی بن حسین نے مجھ سے بیان کیا کہ قَالَ إِنَّ عَلِيًّا خَطَبَ بِنْتَ أَبِي حضرت مسور بن مخرمہ نے کہا: حضرت علیؓ نے جَهْلٍ فَسَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ فَأَتَتْ ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے کا پیغام بھیجا۔ حضرت رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فاطمہ نے یہ سن لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (۱) یہ عبارت صحیح بخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی کے مطابق ہے۔ ( صحیح بخاری جلد اول صفحہ ۵۲۸)