صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 210 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 210

صحیح البخاری جلدی ۲۱۰ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم بَاب ۱۱ : ذِكْرُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کا ذکر ۳۷۱۰ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۷۱۰ : حسن بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ محمد حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ بن عبد الله انصاری نے ہمیں بتایا۔ (وہ کہتے تھے) حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُثَنَّى عَنْ میرے باپ عبد اللہ بن مثنیٰ نے مجھ سے بیان کیا۔ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسٍ انہوں نے ثمامہ بن عبد اللہ بن انس سے ، تمامہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ كَانَ إِذَا قَحَطُوا اسْتَسْقَى بِالْعَبَّاسِ حضرت عمر بن خطاب کی عادت تھی۔ جب لوگوں میں قحط پڑتا تو حضرت عباس بن عبد المطلب کے بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنَّا وسیلے سے بارش کی دعا کرتے، کہتے : اے اللہ ! ہم كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے تیرے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَسْقِيْنَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ حضور پہنچا کرتے تھے اور تو ہمیں یہ تو ہمیں پانی پلایا کرتا کرتا تھا إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ اور اب ہم تیرے نبی کے چچا کے وسیلے سے تجھ فَيُسْقَوْنَ۔ طرفه: ۱۰۱۰۔ تک پہنچتے ہیں۔ اس لئے ہم پر مینہ برسا۔ حضرت انس کہتے تھے : تو پھر ان پر مینہ برستا۔ لفظ تشريح ۔ ذِكْرُ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَوانِ باب میں بجائے مناقب کے لفظ ذكر عمداً اختیار کیا گیا ہے ؟ ہے اور اس تعلق میں صرف ایک ہی روایت منقول ہے ؟ الله رضي عنه ۔ ا جو کتاب الاستسقاء باب ۳ میں گذر چکی ہے۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ کم سے عمر میں دو تین سال بڑے تھے اور حضرت عثمان کے ایام خلافت (۳۲ھ) میں فوت ہوئے۔ نوے سال کے قریب عمر پائی۔ ابوالفضل کی کنیت سے مشہور تھے۔ قریش مکہ کی شدید مخالفت کے ایام میں آنحضرت صلی اللہ علم کی حفاظت کی۔ غزوہ بدر میں یہ بھی اسیر ہوئے اور اپنا اور اپنے بھتیجے عقیل بن ابی طالب کا فدیہ دے کر آزادی حاصل کی اور انہوں نے فتح مکہ کے بعد اعلانیہ اسلام اسلام قبول کیا۔ عدم ہجرت کی وجہ سے حضرت عمرؓ انہیں مجلس شوری میں شامل نہ کرتے تھے بحالیکہ آپ کو ان کی فضیلت کا اعتراف تھا۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۹۸، ۹۹) ایک بار قحط باراں کے ایام میں کعب الاخبار نے ان سے ذکر کیا کہ بنی اسرائیل ایسے موقع پر اپنے انبیاء کی اولاد کے وسیلے سے دعا کرتے تو بارش ہو جاتی۔ حضرت عمرؓ نے