صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 207
صحیح البخاری جلدی ۲۰۷ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم ۔ حَتَّى لَا أَكُلُ الْخَمِيْرَ وَلَا أَلْبَسُ خمیری روٹی نہیں کھاتا تھا اور نہ دھاری دار چادر الْحَبِيْرَ وَلَا يَخْدُمُنِي فُلَانٌ وَلَا پہنتا تھا اور نہ فلاں مرد اور نہ فلاں عورت میری فُلَانَةُ وَكُنْتُ أُلْصِقُ بَطْنِي بِالْحَصْبَاءِ خدمت کرتے تھے۔ اور بھوک کے مارے میں اپنا مِنَ الْجُوعِ وَإِنْ كُنْتُ لَأَسْتَقْرِئُ پیٹ کنکریلی زمین سے لگائے رکھتا تھا اور کبھی الرَّجُلَ الْآيَةَ هِيَ مَعِي كَيْ يَنْقَلِبَ کسی شخص سے سرسری آیت کا مفہوم پوچھ لیتا تھا بِي فَيُطْعِمَنِي وَكَانَ أَخْيَرَ النَّاسِ جو مجھے یاد ہوتی تا وہ مجھے اپنے گھر لے جائے اور لِلْمَسَاكِينِ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ كَانَ کھانا کھلائے۔ اور جعفر بن ابی طالب مسکینوں يَنْقَلِبُ بِنَا فَيُطْعِمُنَا مَا كَانَ فِي بَيْتِهِ کے لئے سب لوگوں میں سے زیادہ اچھے تھے۔ حَتَّى إِنْ كَانَ لَيُخْرِجُ إِلَيْنَا الْعُكَّةَ ہمیں اپنے ساتھ لے کر گھر کو لوٹتے اور جو بھی الَّتِي لَيْسَ فِيْهَا شَيْءٌ فَيَشُقُهَا (۱) ان کے گھر میں ہوتا ہمیں کھلا دیتے یہاں تک کہ فَنَلْعَقُ مَا فِيهَا۔ طرفه: ۵۴۳۲ وہ کبھی: ہمارے پاس وہ کسی جس میں کچھ مجھ نہ ہوتا باہر لے آتے۔ ہم اس کو پھاڑ دیتے اور جو اُس میں ہوتا اسے چاٹ لیتے۔ ۳۷۰۹ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۳۷۰۹ : عمرو بن علی (فلاس) نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا کر یزید ریزید بن ہارون نے ہمیں بتایا۔ اسماعیل بن ابی إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنِ الشَّعْبِي خالد نے ہمیں بتایا کہ شعبی سے روایت ہے کہ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا کی عادت تھی کہ إِذَا سَلَّمَ عَلَى ابْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: جب حضرت جعفر کے بیٹے کو سلام کہتے تو یہ کہتے : السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا ابْنَ ذِي الْجَنَاحَيْنِ ” اے دو پنکھ والے کے بیٹے تم پر سلامتی ہو “ ۲ { قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يُقَالُ كُنْ { اور ابو عبد اللہ (امام بخاری) نے کہا: عربی زبان فِي جَنَاحِي كُنْ فِي نَاحِيَتِي كُلُّ میں کہتے ہیں: كُنْ فِي جَنَاحِی۔ یعنی میرے پہلو 1) فَيَشُقُهَا کی بجائے عمدۃ القاری میں فَنَشُقُهَا کا لفظ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۶ اصفحہ ۲۱۹) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ (۲) یہ الفاظ بخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی کے مطابق ہیں۔ (بخاری جلد اول صفحہ (۵۲۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔