صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 205 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 205

صحیح البخاری جلدی ۲۰۵ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صلي بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي وَقَالَ أَلَا رہو اور آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے اس طور أُعَلِّمُكُمَا خَيْرًا مِّمَّا سَأَلْتُمَانِي إِذَا سے کہ میں نے آپ کے پاؤں کی ٹھنڈک اپنے أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا تُكَبِرَانِ أَرْبَعًا سینے میں محسوس کی اور آپؐ نے فرمایا: کیا میں تم وثَلاثِينَ وَتُسَبِّحَانِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ لوگوں کو ایسی بات نہ بتلاؤں جو اس بات سے بہتر ہو جو تم نے مانگی ہے ؟ جب تم اپنے بستروں پر لیٹو وَتَحْمَدَانِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمَا مِنْ خَادِمٍ۔ اطرافه: ۳۱۱۳، ۵۳۶۱، ۵۳۶۲، ۶۳۱۸ تو چونیتس بار اللہ اکبر اور تینتیس بار سبحان اللہ اور تینتیس بار الحمد اللہ کہو تو یہ بات تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔ ٣٧٠٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ۳۷۰۶ : محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ غندر حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعْدٍ نے ہمیں بتایا۔ شعبہ نے ہم سے بیان کیا کہ سعد قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ سے روایت ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے ابراہیم أَبِيْهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ بن سعدا بن ابی و ا و قاص) سے سنا۔ انہوں نے وَسَلَّمَ لِعَلِيِّ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُوْنَ اپنے باپ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا: کیا تم مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُّوْسَى۔ طرفه : ۴۴۱۶۔ اس سے خوش نہیں ہوتے کہ تم میرے ساتھ ایسے ہی ہو جیسے موسی کے ساتھ ہارون۔ ۳۷۰۷: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ۳۷۰۷: علی بن جعد نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ الْجَعْدِ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے ، ایوب نے ابن سیرین سے، ابن سیرین نے عبیدہ سے، ابْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبِيْدَةَ عَنْ عَلِيِّ عبیدہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: تم فیصلہ کر لیا کرو جیسا کہ تم پہلے کیا کرتے تھے كُنْتُمْ تَقْضُوْنَ فَإِنِّي أَكْرَهُ الْاِخْتِلَافَ کیونکہ میں اختلاف کو ناپسند کرتا ہوں تا وقتیکہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ اقْضُوْا كَمَا حَتَّى يَكُوْنَ النَّاسُ جَمَاعَةً أَوْ سب لوگ ایک جماعت بن جائیں یا میں بھی اپنے أَمُوْتَ كَمَا مَاتَ أَصْحَابِي فَكَانَ ساتھیوں کی طرح وفات پا جاؤں۔ ابن سیرین