صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 200 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 200

صحیح البخاری جلدی ۲۰۰ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صلي الْمِيْثَاقَ قَالَ ارْفَعْ يَدَكَ يَا عُثْمَانُ ہے۔ بتائیں، اگر میں آپ کو امیر بناؤں تو کیا آپ فَبَايَعَهُ فَبَايَعَ لَهُ عَلِيٌّ وَوَلَجَ أَهْلُ ضرور انصاف کریں گے؟ اور اگر میں عثمان کو امیر الدَّارِ فَبَايَعُوْهُ۔ بناؤں تو آپ ان کی بات سنیں گے اور ان کا حکم مانیں گے؟ پھر حضرت عبد الرحمن دوسرے کو تنہائی میں لے گئے اور ان سے بھی ویسے ہی کہا۔ جب انہوں نے پختہ عہد لے لیا تو کہنے لگے : عثمان ! آپ اپنا اطرافه : ۱۳۹۲، ۳۰۵۲، ۳۱۶۲، ۴۸۸۸، ۷۲۰۷ ہاتھ اٹھائیں اور انہوں نے ان سے بیعت کی۔ اور حضرت علی نے بھی ان سے بیعت کی اور گھر والے اندر آگئے اور انہوں نے بھی ان سے بیعت کی۔ تشريح : قِصَّةُ الْبَيْعَةِ وَالْإِنْفَاقُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رضي الله عنه: باب بذا میں ایک مفصل روایت ہے جس میں حضرت عمری کی شہادت اور حضرت عثمان کا کی الله ارضي عنه بیعت کا واقعہ مذکور ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ صحابہ کرام میں سے اہل الرائے اور چیدہ اشخاص نے انہیں بہتر سمجھ کر خلافت کے لئے منتخب فرمایا۔ روایات کا بیشتر حصہ سابقہ باب میں گذر چکا ہے۔ باب ۹ مَنَاقِبُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبِ الْقُرَشِيِّ الْهَاشِمِي أَبِي الْحَسَنِ الله ابو الحسن حضرت علی بن ابی طالب قرشی ہاشمی رضی اللہ عنہ کے اوصاف وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ سے فرمایا: لِعَلِي أَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ۔ وَقَالَ تم کو مجھ سے تعلق ہے اور مجھے تم سے۔ اور حضرت عُمَر تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عمر نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسی حالت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُ رَاضٍ۔ میں فوت ہوئے کہ آپ ان (حضرت علیؓ) سے خوش تھے۔ ۳۷۰۱ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۳۷۰۱ : قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عبد العزیز نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو حازم عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سے ، ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ