صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 192
صحیح البخاری جلدی ۱۹۲ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي صل عليهم وقف کر دے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس خواہش کا علم ہوا۔ چار صد دینار (اشرفی) سے خرید کر اسے وقف کر دیا۔ آپ نے ان کے لیے دعا کی: اللهمَّ أَوْجِبْ لَهُ الْجَنَّةَ - اے اللہ ! انہیں جنت نصیب کر۔ (الطبقات الكبرى لابن سعد ، ذكر البنار التي شرب منہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جزء اول صفحہ ۵۰۶) امام بخاری نے بابے کے عنوان میں حَفَرَ ( کھدوایا) بتایا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ طبقات ابن سعد کا بیان بھی درست ہو اور یہ بیان بھی کہ بئر رومہ خرید کر اسے درست اور فراخ کر دیا تا استفادہ زیادہ ہو۔ بابے کی روایت نمبر ۳۶۹۶) میں ولید بن عقبہ کے خلاف تعزیر عائد کرنے کا جو ذکر ہے اس کا تعلق شراب پینے کے الزام سے ہے۔ شہادت سے ثابت ہونے پر کہ وہ زمانہ جاہلیت والی شراب ہی تھی نہ کہ منقہ یا کھجور کا شربت، حضرت عثمان نے قرابت کا لحاظ نہیں فرمایا بلکہ قرابت کی وجہ سے اسے دو گنا سزا دی۔ بجائے چالیس کے اسی کوڑے لگوائے اور یہ تعداد حضرت عمرؓ کے تعامل سے ثابت تھی جیسا کہ ابن حجر نے اس بارے میں مفصل بیان کیا ہے۔ ( فتح الباری جزء ے صفحہ اے ، ۷۳، ۷۴) روایت نمبر ۳۶۹۸ میں مصری باغیوں کے الزامات کا ذکر ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جن کا مدلل رڈ فرمایا ہے۔ باب : قِصَّةُ الْبَيْعَةِ وَالْاِتِّفَاقُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بیعت کا واقعہ اور حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی نسبت اتفاق کرنا وَفِيهِ مَقْتَلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اور اس میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا۔ کے قتل کئے جانے کا بھی ذکر ہے۔ ۳۷۰۰ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۳۷۰۰ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ ابو عوانہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حصین سے جھین حُصَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ ے عمرو بن میمون سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عمر بن رت عمر بن خطاب رضي عنه کو ان کے زخمی رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ الله کئے جانے سے کچھ دن پہلے مدینہ میں دیکھا۔ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بِأَيَّامٍ بِالْمَدِينَةِ وہ حضرت حذیفہ بن یمان اور حضرت عثمان بن وَقَفَ عَلَى حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ حیف کے پاس ٹھہرے۔ پوچھنے لگے : تم دونوں وَعُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ كَيْفَ نے کیا کیا ؟ کیا تم اس سے تو نہیں ڈرتے کہ کہیں اس فَعَلْتُمَا أَتَخَافَانِ أَنْ تَكُونَا حَمَّلْتُمَا زمین پر ایسالگان مقرر کیا گیا ہو جس کی وہ طاقت نہ