صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 191 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 191

صحیح البخاری جلد 191 ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي ام رَضِيَ ٣٦٩٩: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۳۶۹۹: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ يحي يَحْيَى عَنْ سَعِيْدٍ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا (قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید سے، اللهُ عَنْهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ صَعِدَ سعید نے قارہ سے روایت کی کہ حضرت انس النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُحُدًا رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا، کہا: نبی صلی اللہ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ علیہ وسلم اُحد پر چڑھے اور آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان تھے تو وہ ملنے لگا۔آپ نے فرمایا: احد ٹھہر جا۔میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے اس پر اپنا پاؤں بھی مارا۔کیونکہ تم پر اور کوئی نہیں، صرف ایک نبی اور ایک وَقَالَ اسْكُنْ أُحُدُ أَظُنُّهُ ضَرَبَهُ بِرِجْلِهِ فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ وَصِدِيقٌ وَشَهِيْدَانِ۔اطرافه: ۳۶۷۵، ۳۶۸۶ یح: صدیق اور دو شہید ہیں۔مَنَاقِبُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّان له : حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے اوصاف سے متعلق عنوان باب قائم کر کے ان کے دو امتیازی کاموں کا حوالہ دیا گیا ہے۔چاہ رومہ کی کھدوائی اور جیش العسرة کی تیاری جس کے تعلق میں دیکھئے کتاب المغازی شرح باب غزوة تبوك جس كا دوسرا نام غزوۂ عسرہ ( تنگی و تکلیف) ہے۔اس غزوہ سے رومیوں کی یورش کا سد باب مقصود بالذات تھا۔بقول ابن سعد رجب ۹ ہجری میں تیس ہزار پیادہ سپاہ اور دس ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ آپ نے کوچ فرمایا تھا۔الطبقات الكبرى لابن سعد ، ذكر البحار التي شرب منہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، جزء اول صفحہ ۵۰۶) شدت گرمی، قلت خوراک، قلت آگ اور قلت سواری وغیرہ امور کی وجہ سے سخت تکلیف اُٹھائی جس کی وجہ سے یہ جنگ غزوۃ العسرہ کے نام سے مشہور ہے۔اس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جو مالدار تھے ، فوج کشی کی تیاری میں بہت مدد فرمائی۔سورہ توبہ آیت نمبر 1 میں سَاعَة الْعُسْرَة کے الفاظ سے اس کا ذکر وارد ہوا ہے اور مہاجرین و انصار کی تعریف کی گئی ہے کہ ایسی تکلیف کے وقت انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دیا۔عَلَيْهِمْ رِضْوَانَ اللَّهِ أَجْمَعِينَ دوسری خدمت چاو رومہ کی کھدوائی تھی جس سے قلت پانی کی شکایت دور ہوئی۔یہ بئر رومہ ایک مزنی شخص کی ملکیت تھی اور وہ اجرت پر لوگوں کو پانی دیتا تھا۔موسم گرما میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا۔شدت کی گرمی تھی۔وہاں سے پانی منگوا کر پیا اور فرمایا: نِعْمَ صَدَقَةُ الْمُسْلِمِ هَذِهِ مِنْ رَّجُلٍ يَبْتَاعُهَا مِنَ الْمُزَنِي فَيَتَصَدَّق بھا۔کیا ہی اچھا صدقہ ہو گا مسلمان شخص کا جو اس مزنی سے یہ خرید لے اور بطور صدقہ اسے لوگوں کے لیے