صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 187
صحیح البخاری جلد ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي الام ٣٦٩٦ : حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ شَبِيْبِ ۳۶۹۶ : احمد بن شبیب بن سعید نے مجھ سے بیان بْنِ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ کیا، کہا: میرے باپ نے یونس سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا۔ابن شہاب سے روایت ہے۔عروہ نے مجھ کو خبر دی۔عبید اللہ بن عدی بن يُونُسَ عَن ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَدِي بْنِ خیار نے ان کو بتایا کہ حضرت مسور بن مخرمہ اور نے کہا: میں سمجھتا ہوں، انہوں نے کہا: میں تم سے الْخِيَارِ أَخْبَرَهُ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ عبد الرحمن بن اسود بن عبد یغوث دونوں نے مجھے مَخْرَمَةَ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْأَسْوَدِ کہا کہ تمہیں کیا بات روک ہے کہ حضرت عثمان بن عَبْدِ يَغُوْثَ قَالَا مَا يَمْنَعُكَ أَنْ سے ان کے بھائی ولید سے متعلق گفتگو کرو کیونکہ تُكَلِّمَ عُثْمَانَ لِأَخِيْهِ الْوَلِيدِ فَقَدْ لوگوں نے اس کے متعلق بہت کچھ چہ مگوئیاں کی أَكْثَرَ النَّاسُ فِيْهِ فَقَصَدْتُ لِعُثْمَانَ ہیں۔تو میں حضرت عثمان کے پاس گیا۔وہ نماز حَتَّى خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ قُلْتُ إِنَّ کے لئے باہر آئے۔میں نے کہا: آپ سے مجھے لِي إِلَيْكَ حَاجَةً وَهِيَ نَصِيْحَةٌ لَّكَ ایک کام ہے اور وہ آپ کی خیر خواہی ہی ہے۔حضرت عثمان نے کہا: بھلے آدمی۔تم سے۔۔۔معمر قَالَ يَا أَيُّهَا الْمَرْءُ مِنْكَ قَالَ مَعْمَرٌ أُرَاهُ قَالَ أَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنْكَ فَانْصَرَفْتُ اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔یہ سن کر میں وہاں سے چل فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمَا إِذْ جَاءَ رَسُوْلُ دیا اور ان لوگوں کے پاس واپس آیا۔اتنے میں عُثْمَانَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ مَا نَصِيْحَتُكَ حضرت عثمان کا پیغامبر آیا اور میں ان کے پاس فَقُلْتُ إِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ بَعَثَ مُحَمَّدًا گیا۔انہوں نے پوچھا: تمہاری کیا خیر خواہی ہے ؟ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ میں نے کہا: اللہ سبحانہ نے محمد صلی یم کو سچائی کے عَلَيْهِ الْكِتَابَ وَكُنْتَ مِمَّن اسْتَجَابَ ساتھ مبعوث فرمایا اور آپ پر کتاب نازل کی اور لِلَّهِ وَلِرَسُوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آپ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں، جنہوں نے اللہ فَهَاجَرْتَ الْهِجْرَتَيْنِ وَصَحِبْتَ آپ نے دو ہجرتیں بھی کیں اور رسول اللہ صلی ال تیم رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کا ساتھ دیا اور آپ نے حضور کی روش دیکھی وَرَأَيْتَ هَدْيَهُ وَقَدْ أَكْثَرَ النَّاسُ فِي اور ولید کے متعلق لوگ بہت کچھ کہہ چکے ہیں۔اور اس کے رسول صلی الم کی دعوت قبول کی اور