صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 186 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 186

صحیح البخاری جلد رَضِيَ (AY - کتاب فضائل أصحاب النبي عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي مُوسَى ایوب نے ابو عثمان سے ، ابو عثمان نے حضرت اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا وَأَمَرَنِي علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھ سے بِحِفْظِ بَابِ الْحَائِطِ فَجَاءَ رَجُلٌ فرمایا کہ میں اس باغ کے دروازے پر پہرہ دوں۔اتنے میں ایک شخص آیا۔اندر آنے کی اجازت يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ ما لگنے لگا۔آپ نے فرمایا: اس کو اجازت دو اور بِالْجَنَّةِ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ اس کو جنت کی بشارت دو۔تو کیا دیکھا کہ وہ يَسْتَأْذِنُ فَقَالَ الدَنْ لَّهُ وَبَشِّرْهُ حضرت ابوبکر ہیں۔پھر ایک اور شخص آیا۔اجازت بِالْجَنَّةِ فَإِذَا عُمَرُ ثُمَّ جَاءَ آخَرُ مانگنے لگا تو آپ نے فرمایا: اسے اجازت دو اور اس يَسْتَأْذِنُ فَسَكَتَ هُنَيْهَةً ثُمَّ قَالَ کو جنت کی بشارت دو۔تو کیا دیکھا کہ حضرت عمرؓ الذَنْ لَّهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَی ہیں۔پھر ایک اور آیا، اجازت مانگنے لگا۔آپ سَتُصِيبُهُ فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ۔تھوڑی دیر خاموش رہے۔پھر فرمایا: اسے اجازت دو اور اس کو جنت کی بشارت دو، باوجود ایک بڑی مصیبت کے جو عنقریب اس کو پہنچے گی۔تو کیا دیکھا کہ حضرت عثمان بن عفان نہیں۔قَالَ حَمَّادٌ وَحَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ حماد نے کہا: اور عاصم احول اور علی بن حکم وَعَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ سَمِعَا أَبَا عُثْمَانَ دونوں نے ہم سے بیان کیا۔دونوں نے ابو عثمان سے سنا۔وہ بھی حضرت ابو موسیٰ سے اس طرح يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي مُوْسَى بِنَحْوِهِ۔روایت کرتے ہوئے بیان کرتے تھے۔وَزَادَ فِيْهِ عَاصِمٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله اور عاصم نے اس میں اتنا بڑھایا کہ نبی صلی علم ایسی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ قَاعِدًا فِي مَكَانٍ جگہ بیٹے تھے جہاں پانی تھا۔اپنے گھٹنے ، یا کہا: اپنا فِيْهِ مَاءً قَدْ كَشَفَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ أَوْ گھٹنا کھولے ہوئے تھے۔جب حضرت عثمان اندر رُكْبَتِهِ فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ غَطَّاهَا۔آئے تو آپ نے اس (گھٹنے ) کو ڈھانپ دیا۔اطرافه: ۳۶۷۴، ۶۲۱۶،۳۶۹۳، ۷۰۹۷، ۷۲۶۲۔