صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 185
صحیح البخاری جلد IAQ -۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي - قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي انہوں نے کہا: ابن وہب نے مجھے بتایا۔کہا کہ حَيْوَةُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عَقِيْلِ زُهْرَةً حيوه نے مجھ کو خبر دی۔انہوں نے کہا کہ ابو عقیل بْنُ مَعْبَدٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ عَبْدَ اللهِ زهره بن معبد نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں نے بْنَ هِشَامٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ اپنے دادا عبد اللہ بن ہشام سے سنا۔وہ کہتے تھے: صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ نے حضرت عمر بن خطاب کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا۔عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ۔اطرافه: ۶۶۳۲،۶۲۶۴ یح مَنَاقِبُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: اس باب میں حضرت عمرؓ سے متعلق جو روایتیں منقول ہیں، ان میں آپ کے اوصاف حمیدہ کا ذکر ہے۔ہر روایت کسی نہ کسی خوبی سے تعلق رکھتی ہے جو کسی مزید شرح کی محتاج نہیں۔ان سے ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک حضرت ابوبکر کے بعد حضرت عمر ہی منصب خلافت کے لائق تھے۔وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خلیفۃ الرسول حضرت ابو بکر کے پسندیدہ وجو د تھے۔نیز دیگر صحابہ بھی انہیں اسی محبت اور احترام سے دیکھتے تھے۔باب ۷ مَنَاقِبُ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَبِي عَمْرٍو الْقُرَشِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حضرت عثمان بن عفان ابو عمر و قرشی رضی اللہ عنہ کے اوصاف وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو رومہ کا مَنْ يَحْفِرُ بِثْرَ رُوْمَةَ فَلَهُ الْجَنَّةُ کنواں کھو دے گا اس کے لئے جنت ہو گی تو فَحَفَرَهَا عُثْمَانُ وَقَالَ مَنْ جَهَّزَ حضرت عثمان نے اس کو کھدوایا۔اور آپ نے جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَلَهُ الْجَنَّةُ فَجَهَّزَهُ فرمایا: جو جیش العسرۃ کو ساز و سامان سے تیار کر دے اس کے لئے جنت ہو گی تو حضرت عثمان عُثْمَانُ۔نے اس فوج کو ساز و سامان سے تیار کیا۔٣٦٩٥ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۳۶۹۵: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب سے،