صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 183 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 183

صحیح البخاری جلد TAM -۲۲ کتاب فضائل أصحاب النبي الام صُحْبَتَهُمْ وَلَئِنْ فَارَقْتَهُمْ لَتُفَارِقَنَّهُمْ پھر آپ ان سے ایسی حالت میں جد اہوئے کہ وہ وَهُمْ عَنْكَ رَاضُونَ قَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتَ آپ سے خوش تھے۔پھر آپ ان کے صحابہ کے مِنْ صُحْبَةِ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ ساتھ رہے اور آپ نے نہایت عمدگی سے ان کا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِضَاهُ فَإِنَّمَا ذَاكَ مَنْ ساتھ دیا اور اگر آپ ان سے جدا ہو گئے تو یقینا آپ ایسی حالت میں ان سے جدا ہوں گے کہ وہ مِنَ اللهِ تَعَالَى مَنَّ بِهِ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا آپ سے خوش ہوں۔حضرت عمر نے کہا: یہ جو تم ذَكَرْتَ مِنْ صُحْبَةِ أَبِي بَكْرٍ وَرِضَاهُ نے رسول الله الا ظلم کی صحبت اور آپ کی خوشنودی فَإِنَّمَا ذَاكَ مَنْ مِّنَ اللَّهِ جَلَّ ذِكْرُهُ مَنْ کا ذکر کیا ہے تو یہ محض اللہ تعالیٰ کا احسان ہے جو اس بِهِ عَلَيَّ وَأَمَّا مَا تَرَى مِنْ جَزَعِي فَهُوَ نے مجھ پر کیا۔اور جو تم نے حضرت ابو بکر کی صحبت مِنْ أَجْلِكَ وَأَجْل أَصْحَابِكَ وَاللهِ لَوْ اور ان کی خوشنودی کا ذکر کیا ہے تو یہ بھی محض اللہ أَنَّ لِي طِلَاعَ الْأَرْضِ ذَهَبًا لَافْتَدَيْتُ جل ذکرۀ کا احسان ہے جو اس نے مجھ پر کیا اور یہ بِهِ مِنْ عَذَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ جو تم میری گھبراہٹ دیکھ رہے ہو تو یہ تمہاری خاطر اور تمہارے ساتھیوں کی خاطر ہے۔اللہ کی قسم ! اگر میرے پاس زمین بھر سونا بھی ہو تو میں ضرور اللہ عزو جل کے عذاب سے فدیہ دے کر چھڑا أَرَاهُ۔عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ لوں پیشتر اس کے کہ میں وہ عذاب دیکھوں۔قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ حماد بن زید نے کہا: ایوب نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، ابن ابی ملیکہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کی کہ میں حضرت عمر کے پاس گیا۔پھر یہی حدیث بیان کی۔دَخَلْتُ عَلَى عُمَرَ بِهَذَا۔٣٦٩٣ : حَدَّثَنَا يُوْسُفُ بْنُ مُوسَى :۳۶۹۳: یوسف بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ ابو اسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: عثمان بن بْنُ غِيَاتٍ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ غیاث نے مجھے بتایا کہ ابو عثمان نہدی نے ہم سے عَنْ أَبِي مُوْسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بیان کیا کہ حضرت ابو موسیٰ ﷺ سے روایت