صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 179 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 179

صحیح البخاری جلد 129 ۶۲ - کتاب فضائل أصحاب النبي نَبِيُّ أَوْ صِدِيقٌ أَوْ شَهِيْدَانِ۔اطرافه: ۳۶۷۵، ۳۶۹۹ آپ نے اس پر اپنا پاؤں مارا اور فرمایا: اُحد ٹھہر جا۔تم پر اور کوئی نہیں، ایک نبی ہے یا ایک صدیق ہے یا دو شہید ہیں۔٣٦٨٧: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ :۳۶۸۷: يحي بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ انہوں نے کہا: ابن وہب نے مجھے بتایا۔انہوں حَدَّثَنِي عُمَرُ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّ زَيْدَ نے کہا: عمر بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ زید بن بْنَ أَسْلَمَ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ سَأَلَنِي اسلم نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: حضرت (عبد اللہ ) بن ابْنُ عُمَرَ عَنْ بَعْضٍ شَأْنِهِ يَعْنِي عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا قَطُّ عمرؓ نے ان کے یعنی حضرت عمر کے بعض حالات کی بابت مجھ سے پوچھا۔میں نے ان کو بتائے۔پھر بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ حِيْنَ قُبِضَ كَانَ أَجَدَّ وَأَجْوَدَ کے بعد جب سے کہ آپ اُٹھائے گئے کبھی کوئی حَتَّى انْتَهَى مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ایسا شخص نہیں دیکھا کہ جو حضرت عمر بن خطاب سے بڑھ کر آخر تک کوشش کرنے والا اور سخاوت کرنے والا ہو۔٣٦٨٨: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بنُ :۳۶۸۸ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ که حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ثابت ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ سے ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت وَسَلَّمَ عَنِ السَّاعَةِ فَقَالَ مَتَی کی کہ ایک شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، السَّاعَةُ قَالَ وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ کہنے لگا: وہ گھڑی کب ہو گی ؟ آپ نے فرمایا: تم لَا شَيْءٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ نے اس کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ مَعَ کہا: کچھ نہیں، سوا اس کے کہ میں اللہ اور اس کے مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ أَنَسٌ فَمَا فَرِحْنَا رسول صلى امن کی کمی سے محبت رکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا: