صحیح بخاری (جلد ہفتم)

Page 175 of 458

صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 175

صحیح البخاری جلد ۱۷۵ -۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي ٣٦٨٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۳۶۸۲: محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے ہم سے بیان بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا کیا کہ محمد بن بشر نے ہمیں بتایا۔(کہا :) عبید اللہ عُبَيْدُ اللهِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: ابوبکر بن سالم نے سَالِمٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ مُجھ سے بیان کیا۔انہوں نے سالم سے، سالم نے اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی رَضِيَ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرِيتُ فِي الْمَنَامِ أَنِّي که نبی صلی علیم نے فرمایا: خواب میں مجھے دکھایا گیا أَنْزِعُ بِدَلْوِ بَكْرَةٍ عَلَى قَلِيْبِ فَجَاءَ کہ میں ایک کنوئیں پر کھڑا ڈول سے جو چرخی پر أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوْبًا أَوْ ذَنُوْبَيْن رکھا ہوا تھاپانی کھینچ کر نکال رہا ہوں۔اتنے میں نَزْعًا ضَعِيفًا وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ جَاءَ ابو بکر آئے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول کھینچ کر عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا اِس طور سے نکالے کہ ان کے کھینچنے میں کمزوری تھی اور اللہ ان کی کمزوری پر پردہ پوشی کرے گا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى رَوِيَ النَّاسُ وَضَرَبُوْا بِعَطَنِ۔قَالَ ابْنُ اور ان سے در گذر فرمائے گا۔پھر عمر بن خطاب آئے اور وہ ڈول بڑا چر سا ہو گیا تو میں نے کوئی الْعَبْقَرِيُّ عِتَاقُ الزَّرَابِيِّ۔وَقَالَ شہ زور نہیں دیکھا جو ایسا حیرت انگیز کام کرتا ہو الزَّرَابِيُّ الطَّنَافِسُ لَهَا خَمْلٌ رقيق، مَبْثُوثَةٌ (الغاشية: ١٧) كَثِيرَةٌ۔جیسا عمر نے کیا۔اتنا پانی نکالا کہ لوگ سیر ہو گئے ور اپنے اپنے ٹھکانوں پر جابیٹھے۔ابن جبیر نے { (١) وَهُوَ سَيِّدُ الْقَوْمِ أَعْنِي الْعَبْقَرِيَّ} کہا: عَبْقَرِي ( آذربائیجان کے بنے ہوئے) اعلیٰ غالیچوں کو کہتے ہیں۔اور يحي نے کہا : ذَرَابي وہ نیچے بچھانے کے فرش ہیں جن میں باریک مخمل کے دھا گے ہوتے ہیں۔اور ذَرَابِيُّ مَبْثُوْثَةٌ کے اطرافه: ۲۰۱۹،۳۶۷۶،۳۶۳۳ معنی ہیں بہت سے بچھے ہوئے قالین۔{ اور عبقری سردار کو بھی کہتے ہیں۔} ا الفاظ وَهُوَ سَيد۔۔۔بخاری مطبوعہ آرام باغ کراچی میں ہیں۔( بخاری جلد اول صفحہ ۵۲۰) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔