صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 169
صحیح البخاری جلد ۱۶۹ ۶۲- کتاب فضائل أصحاب النبي وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَفَعَلْتُ وَأَبُو بَكْرٍ دفعہ سنا تھا۔میں اور ابو بکر اور عمر فلاں جگہ تھے وَعُمَرُ وَانْطَلَقْتُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ اور میں نے اور ابو بکر اور عمرؓ نے یہ کیا۔میں اور فَإِنْ كُنْتُ لَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَكَ اللهُ ابو بکر اور عمر چلے گئے۔اس لئے میں یہی امید مَعَهُمَا فَالْتَفَتُ فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ رکھتا تھا کہ اللہ تم کو بھی ان دونوں کے ساتھ ہی رکھے گا۔میں نے جو مڑ کر دیکھا تو حضرت أَبِي طَالِبٍ۔طرفه: ۳۶۸۵ أَشَدّ علی بن ابی طالب تھے۔٣٦٧٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ :۳۶۷۸ محمد بن یزید کوفی نے ہم سے بیان کیا کہ : الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ عَنِ الْأَوْزَاعِيّ ولید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اوزاعی سے ، اوزاعی عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُّحَمَّدِ نے یحی بن ابی کثیر سے ، بچی نے محمد بن ابراہیم يحيی بْنِ إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: میں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو سے سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو عَنْ مَا صَنَعَ الْمُشْرِكُونَ بِرَسُوْلِ اللهِ سخت سے سخت اس سلوک کی نسبت پوچھا جو مشرکوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ تھا۔انہوں نے کہا: میں نے عقبہ بن ابی معیط کو عُقْبَةَ بْنَ أَبِي مُعَيْطٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ دیکھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي آپ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے تو اس نے آپ فَوَضَعَ رِدَاءً فِي عُنُقِهِ فَخَنَقَهُ بِهِ کی گردن میں (اپنی) چادر ڈالی اور نہایت زور سے حَنْقًا شَدِيدًا فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى آپ کا گلا گھونٹا۔اتنے میں حضرت ابو بکر آن پہنچے دَفَعَهُ عَنْهُ فَقَالَ اتَقتُلُونَ رَجُلًا آن اور انہوں نے عقبہ کو دھکا دے کر آپ سے ہٹایا يَقُول رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَتِ اور کہنے لگے: کیا تم ایک شخص کو اس بات پر مار مِن رَّبِّكُم (المؤمن: ٢٩) اطرافه ۳۸۵۶، ۴۸۱۵ ڈالنا چاہتے ہو کہ وہ یہ کہتا ہے: میرا رب اللہ ہے اور وہ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس کھلے کھلے دلائل بھی لایا ہے۔