صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 155
صحیح البخاری جلد ۱۵۵ کتاب فضائل أصحاب النبي ام صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ عَلَى ذات السلاسل کی فوج پر سپہ سالار مقرر کر کے جَيْشِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ بھیجا اور میں آپ کے پاس آیا۔میں نے کہا: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ قَالَ عَائِشَةُ لوگوں میں سے کون آپ کو زیادہ پیارا ہے ؟ آپ فَقُلْتُ مِنَ الرِّجَالِ قَالَ أَبُوْهَا قُلْتُ نے فرمایا: عائشہ۔میں نے کہا: مردوں میں سے ؟ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ آپ نے فرمایا: ان کا باپ۔میں نے کہا: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: پھر عمر بن خطاب، اور آپ فَعَدَّ رِجَالًا۔طرفه: ۴۳۵۸ نے اسی طرح چند مردوں کو شمار کیا۔٣٦٦٣ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ۳۶۶۳: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا۔شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ نے ہمیں خبر دی کہ زہری سے روایت ہے۔أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ انہوں نے کہا: ابو سلمہ بن عبد الرحمن بن عوف عَوْفٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ الله نے مجھے بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ بَيْنَمَا رَاعٍ فِي آپ فرماتے تھے: اس اثناء میں کہ ایک چرواہا غَنَمِهِ عَدَا عَلَيْهِ الذِّنْبُ فَأَخَذَ مِنْهَا اپنی بکریوں میں تھا کہ بھیڑیئے نے اس پر حملہ کیا اور ان بکریوں میں سے ایک بکری لے گیا۔شَاةً فَطَلَبَهُ الرَّاعِي فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ وہ چرواہا اس کے پیچھے گیا تو بھیڑیے نے اس کی الذِنْبُ فَقَالَ مَنْ لَّهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ طرف مڑ کر دیکھا اور کہنے لگا: درندوں کے زمانہ لَيْسَ لَهَا رَاعٍ غَيْرِي وَبَيْنَمَا رَجُلٌ میں اس کا کون ہو گا، جس دن میرے سوا اس کا يَسُوقُ بَقَرَةً قَدْ حَمَلَ عَلَيْهَا کوئی اور چرواہا نہ ہو گا۔اور ایک بار ایک شخص فَالْتَفَتَتْ إِلَيْهِ فَكَلَّمَتْهُ فَقَالَتْ إِنِّي لَمْ ایک گائے ہانکے لئے جار ہا تھا۔اس پر اس نے أُخْلَقْ لِهَذَا وَلَكِنِّي خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ بوجھ لادا ہو ا تھا۔اس گائے نے اس کی طرف مڑ فَقَالَ النَّاسُ سُبْحَانَ اللهِ قَالَ النَّبِيُّ کر دیکھا اور اس سے بولی، کہنے لگی: میں تو اس کام صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنِّي أُوْمِنُ کے لئے نہیں پیدا کی گئی بلکہ مجھے کھیتی کے لئے