صحیح بخاری (جلد ہفتم) — Page 145
صحیح البخاری جلد ۱۴۵ ۶۲ کتاب فضائل أصحاب النبي ام رَضِيَ ٣٦٥١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۳۶۵۱ محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَّنْصُورٍ عَنْ سفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے منصور إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ سے، منصور نے ابراہیم سے، ابراہیم نے عبیدہ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ ( بن قیس سلمانی) سے ، عبیدہ نے حضرت عبد اللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہترین لوگ میری صدی کے ہیں۔پھر وہ جو معا ان کے بعد ہوں گے۔پھر وہ جو معاً ان کے بعد ہوں گے۔پھر ایسے يَمِيْنَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ قَالَ إِبْرَاهِيْمُ لوگ آئیں گے کہ ان میں سے ایک کی شہادت وَكَانُوْا يَضْرِبُوْنَنَا عَلَى الشَّهَادَةِ اُس کی قسم سے پہلے ہو گی اور اُس کی قسم اُس کی شہادت سے پہلے ہو گی۔ابراہیم نے کہا: ہمیں ( ہمارے بزرگ) شہادت دینے اور عہد کرنے پر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ وَالْعَهْدِ وَنَحْنُ صِغَارٌ۔اطرافه ۶۶۵۸۰۶۴۲۹،۲۶۵۲ مارا کرتے تھے اور ہم ان دنوں چھوٹے تھے۔تشريح : فَضَائِلُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صحابی کی تعریف سے تعلق یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ آیا وہ شخص بھی صحابی کہلائے گا جس نے مطلق آپ کو دیکھا ہو اور عاقل بالغ نہ ہو اور شعور و فہم سے عاری ہو۔وہ آپ کی شخصیت کی نسبت مطلق ناواقف ہو۔مثلاً محمد بن ابی بکر صدیق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے تین ماہ اور چند دن قبل پیدا ہوئے۔اس صغر سنی میں ان کی نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ضرور پڑی ہو گی۔بعض علماء نے یہ سوال اُٹھا کر ایسے اشخاص کو بھی صحابہ میں شمار کیا ہے اور اگر انہوں نے بڑے ہو کر اپنے والدین سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی بات سن کر روایت کی ہو تو وہ ان کے نزدیک قبول ہونی چاہیے۔ایسی روایت مراسیل صحابہ کی فہرست میں شامل کی گئی ہے۔اور بعض نے یہاں تک مبالغہ سے کام لیا ہے کہ صحابی صرف وہ شخص قرار دیا ہے جسے آپ کی صحبت نصیب ہوئی۔عبد اللہ بن سرجس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا مگر آپ کی ہم نشینی سے محروم رہے اور عاصم احول نے جو روایتیں عبد اللہ بن سرجس سے نقل کی ہیں وہ بطور احادیث صحابہ مقبول نہیں ہوئیں۔سعید بن مسیب کی یہی رائے ہے کہ ایسا شخص تابعی شمار ہو گا نہ کہ صحابی۔ان کے نزدیک صحابی وہ ہے جو کم از کم سال بھر آپ کی صحبت میں رہا ہو۔اور بعض نے بلوغت کی شرط رکھی ہے جو جمہور نے رڈ کر دی ہے کیونکہ اس شرط سے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما وغیرہ صحابی