صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 46 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 46

صحيح البخاری جلد 4 My ۵۹ - كتاب بدء الخلق لَنَحْنُ الصَّافُونَ ٥ وَإِنَّا لَنَحْنُ المُسحُونَ ٥ (الصافات: ۱۶۵ تا ۱۶۷) اور ہم سب کے لئے ایک مقررہ مقام ہے اور ہم سب خدا کے سامنے صف باندھ کر کھڑے ہیں اور ہم سب تسبیح کرنے والے ہیں۔مذکورہ بالا آیات کا مفہوم یہ ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہیں۔مذکورہ بالا آیات کی شرح آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۹۳ تا ۱۰۹ میں دیکھئے جہاں منگی تنزلات کی حقیقت بیان کی گئی ہے۔عنوانِ باب میں حضرت انس کے جس قول کا حوالہ دیا گیا ہے، اس کے لئے دیکھئے کتاب مناقب الأنصار ، باب ۵۱۔سورہ بقرہ آیت ۹۸ میں بھی یہود کے باطل خیال کارڈ کیا گیا ہے۔دانیال میں میکائیل کے بارے میں یہ الفاظ ہیں : اور اس وقت میکائیل مقرب فرشتہ جو تیری قوم کے فرزندوں کی حمایت کے لئے کھڑا ہے، اُٹھے گا اور وہ ایسی تکلیف کا وقت ہوگا کہ ابتدائے قوم سے اس وقت تک کبھی نہ ہوا ہوگا اور اس وقت تیرے لوگوں میں سے ہر ایک جس کا نام کتاب میں لکھا ہوگا ، رہائی پائے گا۔(دانیال، باب ۱۲، آیت ۱تا۴) یہ سارا باب ہی قابل غور ہے اور اسلام کے آخری غلبہ سے متعلق پیشگوئی پر مشتمل ہے۔جس کی تصدیق احادیث سے بھی ہوتی ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے کتاب أحاديث الأنبياء، باب ۴۹: نزول عیسی ابن مریم۔باب کے تحت بقول علامہ ابن حجر تمہیں سے زیادہ روایتیں ہیں جو اُن کے نزدیک مِنْ نَوَادِرٍ مَا وَقَعَ فِي هَذَا الْكِتَابِ) ایک نا در امر ہے۔کیونکہ امام بخاری کی عادت ہے کہ وہ احادیث نبویہ الگ الگ عنوانِ باب سے درج کرتے ہیں اور یہاں اپنی خلاف عادت ایک ہی عنوان کے تحت بہت سی احادیث اکٹھی کر دی گئی ہیں۔(فتح الباری جزء 1 صفحہ ۳۶۹) یہ تصرف غالبا اس لئے کیا گیا ہے کہ ملائکہ کے بے شمار اپنے مفوضہ فرائض بھی بلا حصر و حساب ہیں۔جیسا کہ آئینہ کمالات اسلام کے محولہ بالا صفحات کے مطالعہ سے ظاہر ہے کہ ہر ذرہ کا ئنات پر ایک مملک مقرر ہے جس سے اس کا وجود قائم اور اس کے خواص ظہور پذیر ہیں۔امام ابن حجر نے لفظ ملک کے اشتقاق سے متعلق دو قول نقل کئے ہیں۔ایک علامہ سیبویہ اور جمہور کا ہے کہ لفظ ملک، الوكة سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں رسالة یعنی پیغام رسانی۔ملائکہ بطور واسطہ اور پیغام رساں کے ہیں۔اس اشتقاق کی رو سے مَلائِكَة ، مالک کی جمع ہے جو مفعل کا وزن ہے۔ہمزہ کثرتِ استعمال سے ساقط ہے۔اور دوسرا قول علامہ ابو عبیدہ کا ہے کہ یہ لفظ ملک سے ماخوذ ہے جس کے معنی الأخُذُ بِقُوَّةٍ ہیں مضبوطی سے پکڑنا۔جمہور اہل اسلام کے نزدیک ملائکہ لطیف نورانی وجود ہیں اور یہ خیال درست نہیں کہ وہ وفات یافتہ نفوس کی ارواح ہیں یا یہ کہ وہ ستارے ہیں۔( فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۳۶۸) امام ابن حجر نے جبریل کے تلفظ سے متعلق بھی مفصل ذکر کیا ہے کہ یہ لفظ جبر، جبر، جبر وغیرہ تیرہ طریق پر بولا جا سکتا ہے اور یہ نام مرکب ہے۔جبر اور آئیل سے، جبر کے معنی اصلاح یا عبد اور آئیل کے معنی اللہ۔