صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 45
صحيح البخاری جلد ۲ ۴۵ ۵۹ - كتاب بدء الخلق ۳۲۲۳ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۳۲۲۳ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ نے ہمیں خبر دی ۔ ابوالزناد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ اعرج سے، اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رض رضی اللہ عنہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَلَائِكَةُ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا نبی صلی الہ علیہ وسلم نے فرمایان ملائکہ یکے بعد دیگرے آتے جاتے رہتے يَتَعَاقَبُوْنَ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ ہیں بعض ملائکہ رات کو اور بعض ملائکہ دن کو۔ اور صبح بِالنَّهَارِ وَيَجْتَمِعُوْنَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ اور عصر کی نماز میں وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ پھر جو تم وَفِي صَلَاةِ الْعَصْرِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ میں رات کو رہے تھے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف اوپر چلے الَّذِينَ كَانُوْا فِيْكُمْ فَيَسْأَلُهُمْ وَهُوَ جاتے ہیں اور وہ ان سے پوچھتا ہے حالانکہ وہ ان أَعْلَمُ فَيَقُوْلُ كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِي سے زیادہ جانتا ہوتا ہے۔ فرماتا ہے: تم نے میرے فَقَالُوا تَرَكْنَاهُمْ يُصَلُّوْنَ وَأَتَيْنَاهُمْ بندوں کو کس حالت میں چھوڑا؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم يُصَلُّوْنَ۔ اطرافه ٥٥٥، ٧٤٢٩، ٧٤٨٦۔ نے انہیں نماز پڑھتے ہوئے چھوڑا ہے اور ہم ان کے پاس ایسی حالت میں آئے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ تشریح : ذِكرُ الْمَلَائِكَةِ : مائلہ بھی حل دیگر کائنات عالم کے مخلوق ہیں اور وہ ان کے لئے بطور ارواح مدیرہ ہیں۔ ملائکہ کے وجود اور ان کی اس حیثیت سے متعلق مفصل محققانہ بحث کیلئے دیکھئے آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ حاشیہ صفحہ ۷۶۔ اس میں فلسفہ یونانی کے نقطہ نظر کا بھی رد ہے جو آسمان کو ٹھوس شئے سمجھتا تھا اور موجودہ فلسفہ کا بھی جو آسمانی وجود اور ملائکہ اللہ کا سرے سے منکر ہے اور بتایا گیا ہے کہ نظام عالم ملائکہ اللہ کے ذریعے سے جو بطور مذکرات ہیں قائم و دائم ہے۔ عنوان باب میں یہود کے خیال کا رڈ آیت کے حوالہ سے کیا گیا ہے کہ ملائکہ کی کسی انسان سے محبت و بغض ان کے اپنے ارادہ سے نہیں بلکہ خالق کے ارادہ ہے جو اُن کے اندر منعکس ہوتا ہے۔ یہ ضروری حصہ بحث آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ حاشیہ صفحہ ۱۹۶۹ ، ۷۰ میں دیکھی جائے محولہ آیت پوری یہ ہے: وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَّعْلُومٌ وَإِنَّا لى عمدۃ القاری میں اس جگہ الفاظ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ ال ہیں (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحہ ۱۳۷) ترجمہ ان کے مطابق ہے۔ عمدة القاری میں اس جگہ الفاظ بَاتُوا فِيكُمْ ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحہ ۱۳۷) ترجمہ ان کے مطابق ہے۔ عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ فَيَقُولُونَ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۱۵ صفحہ ۱۳۷) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔