صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 287
صحيح البخاری جلد ؟ ۲۸۷ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء لَكُمْ لَا تَرْمُوْنَ فَقَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوا، تیر نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَهُمْ قَالَ ارْمُوا وَأَنَا نہیں چلاتے۔انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ ان ! کے ساتھ ہوں اور ہم تیر چلائیں۔آپ نے فرمایا: تیر مَعَكُمْ كُلِكُمْ۔اطرافه: ۲۸۹۹، ٣٥٠۷۔تشریح چلا ؤ اور میں تم سب کے ساتھ ہوں۔وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ: محولہ آیات کے لئے دیکھئے سورۃ مریم آیات ۵۶،۵۵۔ان آیات کا ترجمہ یہ ہے : اور تو قرآن کے مطابق اسماعیل کا بھی ذکر کر۔وہ بھی یقینا سچے وعدوں والا اور رسول ( اور ) نبی تھا اور اپنے اہل کو نماز اور زکوۃ کی تاکید کرتا رہتا تھا اور اپنے رب کے نزدیک پسندیدہ (وجود) تھا۔کتاب الشہادات باب ۲۸ کے عنوان میں مذکورہ بالا آیت کا حوالہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے صدق وعدہ کی خوبی کا ذکر گزر چکا ہے۔عہد قدیم کے صحیفوں میں سے ان کا ذکر متعدد جگہوں میں وارد ہوا ہے۔مثلاً پیدائش باب ۱۷ آیات ۲۰، ۲۱ میں ہے: ” اور اسماعیل کے حق میں بھی میں نے تیری دعاسنی۔دیکھ میں اسے برکت دوں گا اور اسے برومند کروں گا اور اسے بہت بڑھاؤں گا اور اس سے بارہ سردار پیدا ہوں گے اور میں اسے بڑی قوم بناؤں گا۔اور اس سے پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ صغرسنی میں ان کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام کو آسمان سے ایک فرشتے نے پکار کر کہا: "اے ہاجرہ! تجھ کو کیا ہوا؟ مت ڈر کیونکہ خدا نے اُس جگہ سے جہاں لڑکا پڑا ہے، اس کی آواز سن لی ہے۔اُٹھے اور لڑکے کو اُٹھا اور اسے اپنے ہاتھ سے سنبھال۔کیونکہ میں اس کو ایک بڑی قوم بناؤں گا، پھر خدا نے اس کی آنکھیں کھولیں اور اس نے پانی کا ایک کنواں دیکھا۔“ ( پیدائش باب ۲۱ آیات ۱۷ تا ۱۹) یہی وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی ان کے حق میں کیا گیا ہے۔لکھا ہے: ” اور ابراہیم نے خدا سے کہا کہ کاش اسماعیل ہی تیرے حضور جیتا رہے اور اسماعیل کے حق میں بھی میں نے تیری سنی ( پیدائش باب ۱۷ آیات ۱۸ تا ۲۰) باوجود اس کے عیسائی ان کی نبوت سے منکر ہیں۔چونکہ بنو اسرائیل نے حضرت اسحاق علیہ السلام کو ذبیح اللہ قرار دیا ہے، اس لئے عہد نامہ قدیم کے صحیفوں میں اس تعلق میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا ذکر عمد انظر انداز کیا گیا ہے جس سے ان کے صادق الوعد اور نبی ہونے کا پتہ چلتا ہے۔قرآن مجید نے صحف قدیم کے اس سقم کی اصلاح فرمائی ہے۔جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رویاء کا ذکر ہے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کا یہ قول نقل کیا ہے: قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلُ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللهُ مِنَ الصَّابِرِينَ ) (الصفت : ۱۰۳) یعنی اسماعیل نے رویا سن کر کہا: اے میرے باپ جو حکم آپ کو دیا جاتا ہے ، وہی کریں۔آپ مجھے صابر پائیں گے۔چنانچہ بعد کی آیات سے ظاہر ہے کہ انہوں نے باپ سے جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کیا۔اسی وجہ سے انہیں صادق الوعد سے ملقب فرمایا ہے: وَكَانَ عِندَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا (مریم: (۵۶) اور وہ اپنے رب کے حضور پسندیدہ تھا۔