صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 254
صحيح البخاری جلد ؟ ۲۵۴ ۶۰ - کتاب احاديث الأنبياء يُعَوِّذُ بِهَا إِسْمَاعِيْلَ وَإِسْحَاقَ أَعُوْذُ ابراہیم انہی الفاظ سے اسماعیل اور اسحاق کے لئے بِكَلِمَاتِ اللهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلَّ شَيْطَانٍ پناہ مانگتے تھے۔یعنی میں اللہ کی کامل صفات کے ذریعہ سے ہر شیطان اور ہر زہریلے کیڑے سے اور وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَّامَّةٍ۔ہر بُری آنکھ سے پناہ لیتا ہوں۔تشریح وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا : باب ۸ کے عنوان میں تین آیتیں اور اس کے تحت چودہ روایتیں ہیں۔بابا کا بعض نسخوں میں الگ عنوان نہیں۔اس لئے اس کی اور بابا کی تشریح بھی اس میں شامل ہوگی۔پیشتر اس کے کہ ان تین ابواب کی تشریح بیان کی جائے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ بعثت کا تعین ضروری ہے۔ان کے اور حضرت نوح علیہ السلام کے درمیان ۱۲۵۰ سال کا تخمینہ ہے۔حضرت نوح علیہ السلام شارع نبی تھے جو ہزار اول کی آخری صدی میں مبعوث ہوئے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اس سلسلہ شریعت میں بطور خاتم الخلفاء تھے اور ان کی بعثت سے متعلق اندازہ ہزار دوم کے آخری اور ہزار سوم کے شروع میں معلوم ہوتا ہے۔عیسائی محققین نے تاریخ کے تعین میں قبل مسیح یا بعد مسیح کی اصطلاح اختیار کی ہے۔انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بعثت کا اندازہ ۱۴۵۰ ق۔م کیا ہے۔اس کی تصدیق ان مسماری حروف کے کتبات سے ہوتی ہے جو بابل کے کھنڈرات سے برآمد ہوئے ہیں۔ان کتبات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہم عصر بادشاہ کا ذکر ہے۔(Encyclopedia Britannica, under word: Abraham, volume: 1, page: 60) حضرت ابراہیم علیہ السلام کا سلسلہ نسب سامی الاصل ہے۔یعنی حضرت نوح کے بیٹے سام سے ملتا ہے اور ذوالقرنین کا سلسلہ نسب ان کے بیٹے یافث سے۔(دیکھئے پیدائش باب ۱۱،۱۰۔نیز اس تعلق میں بابے کی تشریح بھی دیکھئے) ایرانی النسل قوم کو ذوالقرنین کے ذریعہ سے انتہائی برکت و ترقی حاصل ہوئی۔حتی کہ اسے اپنے شدید دشمن قبائل یا جوج و ماجوج پر جو متقلبی (Scythians) اور سلانی (Slays) کہلاتے تھے اور بحیرہ اسود کے شمال مشرقی علاقوں میں ٹڈی دل کی طرح چھائے ہوئے تھے اور ایک وقت مید و فارس کے علاقہ پر یلغار پر یلغار کر کے اٹھائیس سال تک قابض رہے اور ایرانی قوم کو اپنی بربریت کا تختہ مشق بنائے رکھا اور آخر ذوالقرنین کے ذریعہ سے نجات حاصل ہوئی۔(A History of World Civilization, The Age of Ancient Empires, Persia, page: 87-91) (The Historians' History of the World, Volume ii, Part viii: Ancient Persia, Chapter ii: The Median or Scythian Empire) سابقہ باب کے تسلسل میں حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے سلام کی نسل میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے۔جن کی ذریت میں سے انبیاء علیہم السلام کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا ہے۔جنہوں نے معبود حقیقی کے ساتھ تعلق پیوستہ کئے۔بنی آدم کی رہنمائی میں بہت بڑی خدمت کی۔باب ۸ کے عنوان میں حسب ذیل تین آیتوں کا حوالہ ہے:۔