صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 245 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 245

صحيح البخاری جلد ۲ ۲۴۵ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء الْبِنَاءُ جَاءَ بِهَذَا الْحَجَرِ فَوَضَعَهُ لَهُ کہا : اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں یہاں ایک گھر بناؤں فَقَامَ عَلَيْهِ وَهُوَ يَبْنِي وَإِسْمَاعِيلُ اور انہوں نے ایک اونچے ٹیلے کی طرف اشارہ کیا۔ یعنی يُنَاوِلُهُ الْحِجَارَةَ وَهُمَا يَقُولَانِ: اس کے ارد گرد جو جگہ اس پر تھی۔ حضرت ابن عباس نے کہا: اس وقت ان دونوں نے بیت اللہ کی بنیادیں رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ اٹھائیں۔ حضرت اسماعیل پتھر لانے لگے اور اور حضرت الْعَلِيمُ قَالَ فَجَعَلَا يَيْنِيَانِ حَتَّى ابراہیم بناتے تھے۔ یہاں تک کہ جب عمارت اونچی يَدُوْرَا حَوْلَ الْبَيْتِ وَهُمَا يَقُوْلَانِ : ہوگئی تو حضرت اسماعیل یہ پتھر لائے اور اسے حضرت رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ ابراہیم کے لئے وہاں رکھ دیا۔ وہ اس پر کھڑے ہو کر عمارت بناتے تھے اور حضرت اسماعیل انہیں پتھر الْعَلِيمُ (البقرة: ۱۲۸)۔ اطرافه: ٢٣٦٨ ، ٣٣٦٢، ٣٣٦٣، ٣٣٦٥۔ پکڑاتے جاتے تھے اور وہ دونوں ساتھ ساتھ یہ دعا بھی مانگتے تھے: اے ہمارے رب! ہم سے یہ قبول کیجئے۔ تو ہی خوب سنتا ہے، خوب جانتا ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا: غرض وہ دونوں اس طرح بناتے رہے۔ بیت اللہ کے ارد گرد پھرتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے : اے ہمارے رب ہم سے یہ قبول کیجئے ۔ تو ہی خوب سنتا ہے، خوب جانتا ہے۔ ٣٣٦٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۳۶۵: عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ ابو عامر عبد الملک بن عمرو نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعِ کہا: ابراہیم بن نافع نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کثیر بن عَنْ كَثِيرِ بْنِ كَثِيرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ کثیر سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے، سعید نے جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا كَانَ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ نے کہا: جب حضرت ابراہیم اور ان کی بیوی ( حضرت وَبَيْنَ أَهْلِهِ مَا كَانَ خَرَجَ بِإِسْمَاعِيلَ سارہ) کے درمیان جو کچھ جھگڑا ہوا تو وہ حضرت اسماعیل