صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 209
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰۹ ٢٠ - كتاب احاديث الأنبياء ۳۳۸۱ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۳۸۱ عبد اللہ بن محمد نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا وَهْبٌ حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ وهب (مندی ) نے ہمیں بتایا ( کہا: ) میرے باپ (کہا: میں نے یونس۔ یونس سے سنا۔ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمِ أَنَّ ابْنَ نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) میں۔ انہوں نے زہری سے، زہری نے سالم سے روایت عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ کی کہ حضرت ابن عمر نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُوا مَسَاكِنَ الَّذِيْنَ عليہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کی بستیوں میں نہ داخل ظَلَمُوْا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَكُوْنُوْا بَاكِيْنَ ہو جنہوں ہو جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ، بجز اس حالت میں أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلَ مَا أَصَابَهُمْ۔ کہ گریہ میں ہو ۔ کہیں تمہیں بھی وہی مصیبت نہ : نہ پہنچے جو اُن کو پہنچی تھی۔ ٤٧٠٢،٤٤٢۰ ،٤٤۱۹ ،۳۳۸۰ ،اطرافه ٤٣٣ تشريح : وَإِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا : اس باب کی ترتیب کے بارے میں بعض کا توں سے آ تبوں ایک غلطی ہوئی ۔۔۔۔ ہے جو امام ابن حجر نے دور کی ہے اور ترتیب میں اسے عاد کے بعد رکھا ہے۔ (دیکھئے فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۶۰ ) عنوانِ باب میں سورہ اعراف، سورہ ھود اور سورہ حجر کی متعلقہ آیات کا حوالہ دیا گیا ہے جن میں حضرت صالح نبی علیہ السلام اور ان کی قوم اور ان کے علاقے کا ذکر ہے۔ سورۃ الاعراف اور سورۃ ہود دونوں جگہ قوم ہود اور قوم صالح کا ذکر ہے۔ یہ قو میں نسلاً حضرت نوح علیہ السلام کے شجرہ نسب سے منسوب ہیں۔ قوم ہود عاد اولی اور قوم صالح عاد ثانیہ کہلاتی ہے۔ اور قرآن مجید میں جہاں کہیں ان کا ذکر وارد ہوا ہے، اکثر اکٹھا ہی ہے۔ دیکھئے سورۃ الاعراف آیات ۶۶ تا ۸۰ ۔ سورۃ ھود آیات ۱ ۵ تا ۶۹ ، ۹۰۔ سورۃ ابراهیم آیت ۱۰۔ سورة الفرقان آیت ۳۹ - سورة الشعراء آیات ۱۲۴ تا ۱۶۰۔ سورة العنكبوت آیت ۳۹ - سورة القمر آیات ۱۹ تا ۳۲- سورة الحاقہ آیات ۵ تا ۹ - سورة الفجر آیات ۷ تا ۱۰۔ اس تعلق میں دیکھئے تفسیر کبیر مؤلفہ حضرت مصلح موعود، تفسیر سورۃ ھود آیات ۶۲ تا ۶۹ ، جلد ۳ صفحه ۲۱۱ تا ۲۱۹ نیز تفسیر سورۃ الفجر جلد ۸ صفحه ۵۴۴۔ قرآن مجید نے دونوں قوموں کے ذکر کو بڑی اہمیت دی ہے۔ پہلا حوالہ سورۃ الاعراف کا ہے۔ اس میں صراحت ہے کہ حضرت صالح نبی علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: وَاذْكُرُوا إِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَاءَ مِنْ بَعْدِ عَادٍ وَبَوَّاكُمْ فِي الْأَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُولِهَا قُصُورًا وَتَنْحِتُونَ الْجِبَالَ بُيُوتًا فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (الأعراف: ۷۵) اور یاد کرو جب اس (یعنی خدا ) نے تم کو عاد کی قوم کے بعد ( ان کا ) جانشین بنایا اور زمین میں تمہارا (اس طرح) ٹھکانہ بنایا کہ تم اس کے میدانوں میں قلعے تعمیر کرتے اور پہاڑوں میں کھود کر گھر بناتے تھے۔ پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں جان بوجھ کر فساد مت کرو۔