صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 208
صحيح البخاری جلد ۲ ۲۰۸ ۲۰ - کتاب احاديث الأنبياء ۳۳۷۹ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ۳۳۷۹ : ابراہیم بن منذر نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ انس بن عیاض نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبید اللہ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ سے، عبیداللہ نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوْا بن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں خبر دی کہ لوگ رسول اللہ مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ثمود کے علاقہ حجر میں اترے أَرْضَ ثَمُودَ الْحِجْرَ وَاسْتَقَوْا مِنْ بِشْرِهَا اور انہوں نے وہاں کے کنوئیں سے پانی لیا اور اس وَاعْتَجَنُوْا بِهِ فَأَمَرَهُمْ رَسُوْلُ اللَّهِ سے آئے گوندھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ارشاد فرمایا کہ انہوں نے کنوؤں سے جو پانی لیا ہے وہ انڈیل دیں اور اونٹوں کو گوندھا آٹا کھلا دیں اور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيْقُوْا مَا اسْتَقَوْا مِنْ بِنَارِهَا وَأَنْ يُعْلِفُوْا پانی اس کنوئیں سے لیں جہاں (حضرت صالح کی ) الْإِبِلَ الْعَجِيْنَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا اونٹنی پانی پینے کے لئے آیا کرتی تھی۔ عبداللہ کی مِنَ الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ۔ طرح اسامہ بن زید لیشی ) نے بھی نافع سے یہی تَابَعَهُ أَسَامَةُ عَنْ نَّافِعِ۔ طرفه: ۳۳۷۸ روایت بیان کی ہے۔ ۳۳۸۰: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا ۳۳۸۰ محمد بن مقاتل ) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ عبد اللہ بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔ انہوں نے معمر سے معمر نے زہری سے روایت کی کہ انہوں أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ نے کہا: سالم بن عبداللہ نے اپنے باپ (حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عبد اللہ بن عمر ) عنہ سے روایت کرتے ہوئے بتایا وَسَلَّمَ لَمَّا مَرَّ بِالْحِجْرِ قَالَ لَا تَدْخُلُوا کہ جب بی حجر سے گزرے تو آپ نے فرمایا کہ عروسة مَسَاكِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا إِلَّا أَنْ تَكُونُوا ان لوگوں کی بستیوں میں داخل نہ ہو جو ظالم تھے۔ بجز اس کے کہ تم گریہ وزاری کی حالت میں ہو۔ مبادا بَاكِينَ أَنْ يُصِيبَكُمْ مَا أَصَابَهُمْ ثُمَّ تمہیں وہ مصیبت پہنچے جو انہیں پہنچی۔ ( یہ کہہ کر ) تَقَنَّعَ بِرِدَائِهِ وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِ۔ آپ نے اپنی چادر سے اپنا منہ ڈھانپ لیا اور آپ اس وقت اونٹ پر سوار تھے۔ اطرافه: ٤٣٣ ، ۳۳۸۱، ٤٤١٩، ٤٤٢٠، ٤٧٠٢