صحیح بخاری (جلد ششم)

Page 151 of 516

صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 151

صحيح البخاری جلد ٦ ۱۵۱ ۵۹ - كتاب بدء الخلق رَّسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صلى اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں إِي وَرَبِّ هَذِهِ الْقِبْلَةِ۔اور اس قبلہ کے رب کی قسم ہے۔طرفه: ۲۳۲۳۔تشریح: إِذَا وَقَعَ الذُّبَابُ فِي شَرَابِ أَحَدِكُم: روایت نمبر ۳۳۶۰ میں جو ارشاد نبوی مکھی سے متعلق وارد ہوا ہے، وہ اس مسلمہ اصل پر بنی ہے کہ ہر مخلوق میں نفع و ضرر کے پہلو پائے جاتے ہیں۔چنانچہ سورۃ الفلق میں یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ کائنات عالم کی ہر شئے باعث خیر وشر ہے اور ہر چیز کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کا حکم ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے ظاہر ہے کہ کبھی میں خیر کا بھی پہلو ہے۔اگر ذہن میں یہ امر ہو تو پینے والا پینے کے برتن سے مکھی نکال کر بغیر کراہت محسوس کئے پی سکتا ہے۔لیکن اگر وہ نازک احساس ہے تو اس کے لئے ضروری نہیں کہ وہ پئے۔بعض لوگوں کا احساس اتنا شدید ہوتا ہے کہ ناپسندیدہ یا بدمزہ شئے ان کے حلق سے قطعاً نہیں اتر سکتی۔اگر طبیعت پر زور دے کر وہ پیئیں تو وہ قے ہو جائے۔مذکورہ بالا ارشاد نبوی حکم نہیں بلکہ ایسی ہدایت ہے جس سے کم احساس رکھنے والے احساس کراہت کا ازالہ کر سکتے ہیں۔احساس کی کمی و بیشی کا تعلق ذہنی تصور سے ہے جو بدلا جا سکتا ہے۔امام بخاری کی روایت کتاب الطب ( باب ۵۸ ) میں بھی لائے ہیں۔مَرَّتْ بِكَلْبِ عَلَى رَأْسِ رَكِيّ: روایت نمبر ۳۳۲ سے جانداروں پر رحم کا سبق سکھایا گیا ہے۔کتاب بدُهُ الخَلق کے ابواب ایک با معنی ترتیب سے قائم کئے گئے ہیں جن کا خاتمہ اس امر پر ہے کہ کائنات کی ہر شئے کار آمد ہے حتی کہ مکھی اور کتے بھی۔روایت نمبر ۳۳۲۳ میں جن کتوں کے مار ڈالنے کا ذکر ہے وہ نقصان دہ اور موذی کہتے ہیں۔عہد نامہ قدیم میں پہلی کتاب کا نام پیدائش ہے جو ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے: ”خدا نے ابتداء میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور زمین ویران اور سنسان تھی اور گہراؤ کے اوپر اندھیرا تھا اور خدا کی روح پانی کی سطح پر جنبش کرتی تھی۔اور خدا نے کہا کہ روشنی ہو جا اور روشنی ہوگئی اور خدا نے دیکھا کہ روشنی اچھی ہے اور خدا نے روشنی کو تاریکی سے جدا کیا اور خدا نے روشنی کو تو دن کہا اور تاریکی کو رات۔اور شام ہوئی اور صبح ہوئی۔سو پہلا دن ہوا۔(پیدائش باب آیت ۱ تا ۵) ایسی کتاب یہود اور نصاریٰ کے نزدیک کلام اللہ ہو تو ہو، اس کا کتاب بدء الخلق سے ذرا مقابلہ یا موازنہ کیا جائے، جسے امام بخاری نے آیات قرآن کریم اور احادیث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اقوال صحابہ کرام وغیرہ کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیا ہے۔دونوں کے مضامین اور ترتیب ابواب میں جو فرق ہے، وہ خود بخود نمایاں ہو جائے گا۔ایک میں تذکرہ پیدائش کا ئنات عالم کہ ابتداء میں زمین و آسمان اور دن رات صبح و شام کا ظہور ہوا۔اور بتایا گیا ہے کہ خالق نے انسان کو اپنا شبیہ بنا کر بر و بحر کو اسے معمور و محکوم کرنے کا اختیار دیا ہے اور اس کتاب کے خاتمہ پر حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ