صحیح بخاری (جلد ششم) — Page 148
صحيح البخاری جلد ٦ ۱۴۸ ۵۹- كتاب بدء الخلق تشریح: خَمْسٌ مِنَ الدَّوَاتِ فَوَاسِقُ: یہ باب بھی سابقہ باب ہی کے تسلسل میں ہے اور اس کے تحت چھ روایتیں ہیں۔جن میں پانچ موذی جانوروں کا ذکر ہے اور انہیں مارنے یا ان کے شر سے محفوظ رہنے کی ہدایت ہے۔نَزَلَ نَبِيٍّ۔۔۔فَلَدَغَتْهُ نَمْلَةٌ فَأَمَرَ : روایت نمبر ۳۳۱۹ کا تعلق قصص بنی اسرائیل سے ہے۔یہ روایت کتاب الجہاد والسیر میں بھی آئی ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں : قَرَضَتْ نَمْلَةٌ نَّبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ فَأَمَرَ بِقَرْيَةِ النَّمْلِ فَأُخْرِقَتْ (كتاب الجهاد باب ۱۵۳، روایت نمبر ۳۰۱۹) اس سے موذی جانور کے ہلاک کرنے سے متعلق استدلال کیا گیا ہے۔لفظ قرية عربی زبان میں چیونٹیوں کے گھروندے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس طرح وطن انسان کی جائے سکونت ، عَطَن اونٹ کی ، عرین اور غابة شیر کی، کناس ہرن کی ، وجار ریچھ کی، غش پرندے کی اور نَافِق چوہے اور چھچھوندر کی رہائش گاہ کے لئے۔(فتح الباری جزء ۶ صفحہ ۴۳۲) اس قصے سے یہ تعلیم دینا مقصود ہے کہ یہ جاندار مخلوق بَدْءُ الخَلْق کے سلسلہ کا ئنات کا ایک ضروری حصہ ہے۔ان میں سے موذی جانداروں کے ایذاء سے اپنے آپ کو محفوظ رکھا جاسکتا ہے اور ان کے قتل کرنے کی اجازت محدود ہے۔وہی نابود کیا جائے جس سے ضرر کا اندیشہ ہو۔اس اجازت سے ظاہر ہے کہ یہ کائنات انسان کے زیر تسخیر ہے نہ کہ انسان ان کی زیر تسخیر۔جیسا کہ مشرکین کا وہم ہے کہ ہر شئے مسکن جان (پوشیدہ ارواح) ہیں جنہیں اگر خوش نہ رکھا گیا تو وہ ضرر رساں ہوں گی۔جبر و شجر اور کواکب پرستی مشرکین کے اسی قسم کے تو ہمات تھے۔بَاب ۱۷: إِذَا وَقَعَ الدُّبَابُ فِي شَرَابٍ أَحَدِكُمْ فَلْيَغْمِسُهُ فَإِنَّ فِي إِحْدَى جَنَاحَيْهِ دَاءً وَفِي الْأُخْرَى شِفَاءٌ تم میں سے کسی کے پینے کی چیز میں جب مکھی گر پڑے تو چاہیے کہ وہ اس کو ڈبو دے کیونکہ اس کے دو پروں میں سے ایک میں بیماری ہے اور دوسرے میں شفاء :۳۳۲۰: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ :۳۳۲۰ خالد بن مخلد نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنِي سليمان بن بلال نے ہمیں بتایا، کہا: عتبہ بن مسلم نے عُتْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ مجھ سے بیان کیا، کہا: عبید بن حسنین نے مجھے بتایا، بْنُ حُنَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ قَالَ النَّبِيُّ کہتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَقَعَ کسی کے پینے کی چیز میں جب کبھی گر پڑے تو چاہیے رَضِيَ