صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 74
صحيح البخاری جلده ام کے ۵۴ - كتاب الشروط صد الله حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ قَالَ أَنْبَأَنِي نَافِعٌ عَنِ بن عون نے ہمیں یہ بتایا، کہا کہ نافع نے حضرت ابن عمر ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنْ عُمَرَ بْنَ رضی اللہ عنہا سے مجھے خبر دی کہ حضرت عمر بن خطاب نے الْخَطَّابِ أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ فَأَتَى خیر میں کچھ زمین حاصل کی اور وہ نبی ﷺ کے پاس النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ اُس کے متعلق مشورہ کرنے آئے۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ ! میں نے خیبر میں زمین حاصل کی ہے۔ فِيهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ میرے نزدیک اس سے بہتر مجھے کبھی کوئی جائیداد نہیں أَرْضًا بِخَيْبَرَ لَمْ أَصِبْ مَالًا قَطَّ أَنْفَسَ ملی۔ آپ مجھے اس کے بارہ میں کیا مشورہ دیتے ہیں؟ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُ بِهِ قَالَ إِنْ شِئْتَ آپ نے فرمایا: اگرتم چاہو تو اصل زمین وقف کر دو اور حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا قَالَ اس کی آمدنی غرباء پر خرچ کرو۔ ( نافع ) کہتے تھے: پھر فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ أَنَّهُ لَا يُبَاعُ وَلَا حضرت عمر نے وہ صدقہ میں دے دی؛ اس شرط پر کہ نہ يُؤْهَبُ وَلَا يُوْرَثُ وَتَصَدَّقَ بِهَا فِي وہ بچی جائے اور نہ کسی کو ہبہ دی جائے، نہ ورثہ میں الْفُقَرَاءِ وَفِي الْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ تقسیم کی جائے۔ اور انہوں نے وہ زمین محتاجوں، رشتہ داروں ، غلاموں کے آزاد کرنے ، اللہ کی راہ میں وَفِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ اور مسافروں اور مہمانوں کے لئے وقف کر دی۔ اور جو وَالضَّيْفِ وَلَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا زمین کا نگران ہو اُس کے لئے کوئی حرج نہیں کہ وہ اس أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوْفِ وَيُطْعِمَ میں سے دستور کے مطابق خود کھائے اور کھلائے مگر مال غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ قَالَ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ کو جمع کرنے والا نہ ہو۔ (ابن عون ) کہتے تھے: میں سِيْرِيْنَ فَقَالَ غَيْرَ مُتَأَثَلٍ مَالًا۔ نے ابن سیرین کے پاس یہ روایت بیان کی ۔ انہوں نے کہا: (اس کے یہ معنی ہیں کہ متولی اس کی آمد سے ) کوئی جائیداد بنانے والا نہ ہو۔ اطرافه ۲۳۱۳، ۲۷۶۴، ۲۷۷۲، ۲۷۷۳، ۲۷۷۷ تشريح الشروط فِي الْوَقْفِ : اس تعلق میں کتاب الوصایا باب ۱۲ ۱۳ دیکھئے۔ V------- 0000000000