صحیح بخاری (جلد پنجم)

Page 75 of 573

صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 75

صحيح البخارى جلده ۷۵ بالله الحالي ٥٥- كِتَابُ الْوَصَايَا بَاب ۱ : الْوَصَايَا وصایا کے بارے میں احکام ۵۵ - كتاب الوصايا وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نیز ( اس بارے میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا وَصِيَّةُ الرَّجُل مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ۔ذکر کہ آدمی کی وصیت اُس کے پاس لکھی رہنی چاہیے۔وَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ كُتِبَ عَلَيْكُمْ اور اللہ عزوجل کا ارشاد: جب تم میں سے کسی پرموت اِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِن کا وقت آجائے تو تم پر بشرطیکہ مرنے والا بہت سامال تَرَكَ خَيْرَ الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ چھوڑے، والدین اور قریبی رشتہ داروں کو دستور کے وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۚ حَقًّا عَلَى مطابق وصیت کر جانا فرض کیا گیا ہے۔یہ بات متقیوں پر واجب ہے۔مگر جو شخص اس ( وصیت) کو الْمُتَّقِينَ فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ اس کے سننے کے بعد بدل دے تو اُس کا گناہ صرف فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ انہیں پر ہو گا جو اسے بدل دیں۔اللہ یقیناً خوب سننے اللهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ فَمَنْ خَافَ والا اور بہت جاننے والا ہے۔اور جو شخص کسی وصیت مِنْ مُّوْصِ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ کرنے والے کی طرف سے طرفداری یا گناہ کے ـيْنَهُمُ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللهَ سرزد ہونے کا خطرہ محسوس کر کے ان کے درمیان غَفُورٌ رَّحِيمُ ) (البقرة: ۱۸۱ - ۱۸۳) اصلاح کر دے تو اُس پر کوئی گناہ نہیں۔اللہ یقینا بڑا بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔جَنَفًا مَيْلًا مُتَجَانِفٌ مَائِلٌ۔جنفًا کے معنی ہیں: ایک طرف جھکنا۔اور مُتَجَائِفٌ کے معنی ہیں: ایک طرف جھکنے والا۔۲۷۳۸: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ :۲۷۳۸ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَّافِعِ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع نے