صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 546
صحيح البخاری جلده ۵۴۶ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَا النَّبِيُّ سے، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدٌ وَحَوْلَهُ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ إِذْ ایک بار سجدہ میں تھے اور آپ کے پاس مشرکین قریش جَاءَهُ عُقْبَةُ بْنُ أَبِي مُعَيْطٍ بِسَلَى جَزُورٍ میں سے کچھ لوگ بھی تھے کہ اتنے میں عقبہ بن ابی فَقَذَفَهُ عَلَى ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ معيط اوٹنی کا بچہ دان لایا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى جَاءَتْ پیٹھ پر اسے ڈال دیا تو آپ نے اپنا سر نہ اٹھایا۔اتنے فَاطِمَةُ عَلَيْهَا السَّلَامُ فَأَخَذَتْ مِنْ میں حضرت فاطمہ علیہا السلام آئیں اور انہوں نے ظَهْرِهِ وَدَعَتْ عَلَى مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ آپ کی پیٹھ سے وہ اُٹھا لیا اور اسے بددعا دینے لگیں فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جس نے یہ حرکت کی تھی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللَّهُمَّ عَلَيْكَ الْمَلَأُ مِنْ قُرَيْشِ اللَّهُمَّ اے میرے اللہ ! تو ہی قریش کے سرداروں سے سمجھ۔عَلَيْكَ أَبَا جَهْلِ بْنَ هِشَامٍ وَعُتْبَةَ بْنَ اے اللہ! ابو جہل بن ہشام اور عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ رَبِيْعَةً وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيْعَةَ وَعُقْبَةَ بْنَ أَبِي بن ربیعہ اور عقبہ بن ابی معیط اور امیہ بن خلف یا فرمایا مُعَيْطٍ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ أَوْ أُبَيَّ بْنَ خَلَفٍ ابي بن خلف سے نپٹ۔تو میں نے ان کو دیکھا کہ وہ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُمْ قُتِلُوْا يَوْمَ بَدْرٍ فَأُلْقُوْا بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور وہ کنوئیں میں ڈالے فِي بِشْرٍ غَيْرَ أُمَيَّةَ أَوْ أُبَيْ فَإِنَّهُ كَانَ گئے۔سوائے امید یا ابی کے کیونکہ وہ موٹا آدمی تھا۔رَجُلًا ضَخْمًا فَلَمَّا جَرُّوْهُ تَقَطَّعَتْ جب انہوں نے اسے گھسیٹا تو اس کا جوڑ جوڑ الگ أَوْ صَالُهُ قَبْلَ أَنْ يُلْقَى فِي الْبِتْرِ۔ہو گیا۔پیشتر اس کے کہ وہ کنوئیں میں ڈالا جاتا۔اطرافه: ۲٤٠ ، ٥۲۰، ٢٩٣٤، ٣٨٥٤، ١٣٩٦٠ تشريح : طَرْحُ حِيفِ الْمُشْرِكِيْنَ فِي البر : یہ باب بھی نداری کے بدانجام ہی سے متعلق ہے۔جہاں مادی اسباب سازگار نظر نہ آئیں، وہاں دعا سے تقدیر الہی جنبش میں آتی اور غیر معمولی اسباب پیدا کر کے انسان کے ذہنی ساختہ پر داختہ کو خس و خاشاک کر دیتی ہے۔جس کا انجام عبرتناک ہے۔کفار نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے مقتولوں کی بعض لاشیں طلب کیں اور معاوضہ پیش کیا۔مگر ان غداروں کی لاشیں اس قابل نہ تھیں کہ کوئی