صحیح بخاری (جلد پنجم) — Page 547
صحيح البخاری جلده ۵۴۷ ۵۸ - کتاب الجزية والموادعة قیمت لے کر واپس کی جاتیں اور باعزت طور پر دفنائی جاتیں۔ایک غلام کی آہ نے قریش مکہ کو بدنصیبی کا یہ دن دکھایا کہ اپنے معزز سرداروں کی لاشیں بھی نہ سنبھال سکے۔روایت زیر باب کے لئے کتاب الصلاۃ باب ۱۰۹ بھی دیکھئے۔وَلَا يُؤْخَذُ لَهُمْ ثَمَنْ : عنوانِ باب میں الفاظ وَلَا يُؤْخَذَ لَهُمُ لَمَنْ ترندی وغیرہ کی روایت سے ماخوذ ہیں جو حضرت ابن عباس سے منقول ہے۔اس میں ہے کہ قریش مکہ نے اپنے مقتولین کی لاشیں قیمت لینی چاہیں مگر آپ نے قیمت لینے سے انکار کر دیا۔(فتح الباری جزء ۶ صفحه ۳۴۰) باب ۲۲: إِثْمُ الْغَادِرِ لِلْبَرِّ وَالْفَاجِرِ نیک اور فاجر سے دعا کرنے والے کا گناہ ٣١٨٦ - ٣١٨٧: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ۳۱۸۶ - ۳۱۸۷: ابوالولید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سلیمان اعمش سے، اعمش نے ابووائل سے، ابووائل نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت کی۔اور شعبہ نے ثابت سے عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَعَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ بھی روایت کی۔انہوں نے حضرت انس سے، انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ نے نبی ﷺ سے کہ آپ نے فرمایا: ہر دغا باز کا قیامت الْقِيَامَةِ قَالَ أَحَدُهُمَا يُنْصَبُ وَقَالَ کے روز ایک جھنڈا ہوگا۔ان دونوں راویوں میں سے الْآخَرُ يُرَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ ایک نے کہا: جھنڈا نصب کیا جائے گا اور دوسرے نے به کہا: قیامت کے روز جھنڈا دیکھنے سے وہ پہچانا جائے گا کہ یہ دغا باز ہے۔۳۱۸۸ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۳۱۸۸ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ کہ حماد بن زید نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا (سختیانی) سے، انہوں نے نافع سے ، نافع نے حضرت قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يُنْصَبُ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا۔ہر دغا باز ع سنن الترمذى، كتاب الجهاد، باب ما جاء لا تفادى جيفة الأسير)